پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیرمیں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے 9جون کو آج طویل مارچ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے بعد خطے میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان محاذ آرائی مزید گہری ہو گئی ہے۔یہ بحران صرف ایک احتجاجی تحریک نہیں بلکہ سیاسی نمائندگی، آئینی اختیارات، انتخابی عمل اور ریاستی نظم و نسق سے متعلق ایک وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
آج احتجاج کی کال کیوں دی گئی؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے تنظیم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تنظیم نے عوام سے گھروں میں ضروری اشیائے خورونوش ذخیرہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی کیونکہ طویل احتجاج اور ممکنہ شٹر ڈاؤن کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی۔
تنازعے کی اصل وجہ کیا ہے؟
تحریک کی ابتدا 2023 اور 2024 میں مہنگی بجلی، آٹے کی قیمتوں، مہنگائی اور حکومتی مراعات کے خلاف ہوئی تھی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے بجلی کے نرخ مقامی پن بجلی منصوبوں سے منسلک کرنے، سستا آٹا فراہم کرنے اور حکمران طبقے کی مراعات کم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے دعویٰ کیا کہ 38 میں سے 36 مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، تاہم دو بڑے مطالبات بدستور حل طلب رہے۔
ان میں سب سے اہم مطالبہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اسمبلی میں موجود 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ ہے جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں مقامی آبادی کی سیاسی نمائندگی کے توازن کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے کشیدگی کیوں بڑھائی؟
7 جون کو پاکستانی زیر قبضہ جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں آئینی حیثیت رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی یا حکومتی حکم سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں میں تبدیلی صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔ اس فیصلے نے حکومت کے مؤقف کو تقویت دی جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے کو قانونی دھچکا پہنچایا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی
5 جون کو مقامی حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تنظیم کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی بعض سرگرمیوں سے امن و امان کو خطرہ لاحق تھا اور اطلاعات تھیں کہ بعض عناصر تشدد، اسلحہ کے استعمال اور ریاستی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔حکومت نے اس کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے ۔عوامی ایکشن کمیٹی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور خود کو ایک عوامی و آئینی حقوق کی تحریک قرار دیتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ جھڑپیں اور ہلاکتیں
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار سکیورٹی اہلکار اور تین احتجاجی کارکن شامل تھے۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 11 تک بتائی گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔مقامی حکومت کا دعویٰ ہے کہ بعض مظاہرین نے خودکار ہتھیاروں اور دیگر ذرائع سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں نے پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔

برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط
حالیہ کشیدگی نے برطانیہ میں بھی توجہ حاصل کی۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین سمیت متعدد اراکین نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر آزاد کشمیر میں گرفتاریوں، مبینہ مواصلاتی پابندیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کے بیانات حقائق سے لاعلمی اور تاریخی پس منظر کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام آباد نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے جو کالعدم تنظیموں کی حمایت کر رہے ہیں۔
بھارت کا موقف
نئی دہلی نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر کڑی نگاہ ہے اور کشمیریوں کے رواں غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتا ہے ۔نئی دہلی نے تازہ واقعات کو پاکستان کے زیرِقبضہ علاقوں میں سیاسی اور انتظامی عدم اطمینان کی علامت قرار دیا ہے۔ بھارت اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے کہ پورا جموں و کشمیرہمارا حصہ ہے۔
موجودہ صورتحال اور آگے کیا؟
9 جون کے احتجاجی اعلان کے باعث مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ متعدد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ حکومت مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کر رہی ہے۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی پابندی کے باوجود احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔





