امریکی کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے: سرجیو گور
ایشین میل نیوزڈیسک
سری نگرجموں و کشمیر کے بارے میں ہندوستان کے بیان کردہ موقف کی ظاہراًتائید کرتے ہوئے ، ہندوستان میں تعینات امریکہ کے سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کےلئے خصوصی ایلچی سرجیو گور نے بدھ کے روز جموں وکشمیر ”ہندوستان کا ایک اہم حصہ“قرار دیا۔ سرجیو گور بد ھ کی سہ پہرجموں و کشمیر اور لداخ کے2روزہ دورے پر سری نگر پہنچے۔ جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کیساتھ ملاقات کے بعدامریکی سفر سرجیو گورنے اول الذکر کی موجودگی میں میڈیا نمائندوںکو بتایاکہ کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہے۔انہوںنے کہاکہ میں پہلی بار اس جگہ کا دورہ کر رہا ہوں۔ یہ ایک ناقابل یقین حد تک خوبصورت جگہ ہے۔انہوںنے کہاکہ ہماری بہت گرمجوشی سے ملاقات ہوئی اور ہم اپنے تعلقات کو استوار کرنے کے منتظر ہیں۔
امریکی سفیر سرجیو گور نے وادی میں سلامتی کی بہتر صورتحال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے سفر پر امریکی شہریوں کے لیے اپنی ایڈوائزری کو کم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔کشمیر کو ایک خوبصورت علاقہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے امریکی اس کی خوبصورتی اور مواقع سے لطف اندوز ہوں گے۔امریکی سفیر نے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا سفری وارننگ جو کہ امریکہ کی طرف سے تجویز کی گئی ہے، ایسی ہے جسے ڈاو¿ن گریڈ کیا جانا چاہیے۔وادی میں سیکورٹی کی بہتر صورتحال کی تعریف کرتے ہوئے،سرجیو گور نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے شہریوں کے لیے امریکی ایڈوائزری پر نظر ثانی پر کوئی بڑا اعلان نہیں کر سکتے، انتظامیہ اس پر غور کر سکتی ہے۔
سرجیوگور کا کہناتھاکہ، ہمیں یقین ہے ، نئی دہلی، یہاں کے وزیر اعلیٰ، یہاں کی حکومت نے ، اس علاقے کو محفوظ رکھنے اور اسے مزید محفوظ بنانے کے لیے کچھ ناقابل یقین قدم اٹھائے ہیں۔ اور اس لیے ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ سفری انتباہ کو کم کیا جانا چاہیے۔یہ ایک خوبصورت علاقہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت سارے امریکی یہاں آکر خوبصورتی کو دیکھ کر لطف اندوز ہوں گے۔امریکی سفیرنے کہاکہ ہم نے ابھی بہت اچھی ملاقات کی ہے، ہمیں واپس آنے کی امید ہے۔
انہوںنے کہاکہ میں بہت پ±رجوش، بہت دوستانہ اور ہم اس تعلقات کو آگے بڑھانے کے منتظر ہیں۔پچھلے سال آپریشن سندور کے بعد سے یہ اعلیٰ امریکی سفارت کار کا پہلا دورہ ہے، جو صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے جنوبی اور وسطی ایشیا کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔سرجیوگور کے دورے کو حالیہ برسوں میں خطے میں ہونے والی تزویراتی پیش رفت کے درمیان ایک اہم امریکی سفارتی مصروفیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





