چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے حصول کیلئے روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت
ایشین میل نیوزڈیسک
سرینگر چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی ) کی جانب سے جموں و کشمیر کے سالانہ بجٹ کو پائیدار ترقی کے اہداف ( ایس ڈی جیز ) کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تجویز کردہ حکمت عملی کا جائیزہ لیا گیا ۔ اس میں نتیجہ پر مبنی منصوبہ بندی ، اسکیموں کے کنور جنس اور عوامی وسائل کی ثبوت پر مبنی تخصیص پر زور دیا گیا ۔
میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس ، کمشنر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ، کمشنر سیکرٹری سوشل ویلفیئر ، سیکرٹری زراعت ، ڈائریکٹر پلاننگ کے علاوہ سینئر افسران اور مختلف محکموں کے نمائندے موجود تھے ۔ یو این ڈی پی ٹیم نے پائیدار ترقی کے اہداف ( ایس ڈی جیز ) کے ساتھ عوامی اخراجات کو ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک ابتدائی روڈ میپ پیش کرنے کیلئے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں یونین ٹیریٹری کے بجٹ اور عوامی مالیاتی انتظام کے ڈھانچے میں ایس ڈی جیز کو ضم کرنے کیلئے ایک منظم طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ۔
یو این ڈی پی کی پیش کردہ حکمت عملی کو نوٹ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ یو این ڈی پی ٹیم کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرنے کیلئے ایک مخصوص ٹیم تشکیل دے اور آنے والے برسوں میں مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے ہر ایس ڈی جی کے تحت مطلوبہ مداخلتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک جامع روڈ میپ تیار کرے ۔ انہوں نے مرکزی معاونت والی سکیموں اور یونین ٹیریٹری حکومت کی سکیموںکا متعلقہ ایس ڈی جیز کے ساتھ جامع میپنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ہر سکیم کا انفرادی اہداف اور ٹارگٹس میں حصہ واضح طور پر قائم ہو سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ خلاءکو پُر کرنے اور شناخت شدہ اہداف کی طرف پیش رفت کو تیز کرنے کیلئے اضافی مداخلتوں اور وسائل کی ضروریات کی بھی نشاندہی کی جائے ۔
انہوں نے مزید ہدایت دی کہ اس مشق میں مختلف مداخلتوں کیلئے ہدف شدہ آبادی اور مستفیدین کی نشاندہی کی جانی چاہئیے تا کہ مرکوز عمل درآمد اور قابل پیمائش نتایج کو آسان بنایا جا سکے ۔ انہوں نے اسکیموں کے انضمام ، مربوط عمل درآمد اور ایک متعین مدت کے دوران نتیجہ پر مبنی نگرانی پر زور دیا ۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس شیلندر کمار نے ہر اسکیم کو متعلقہ ایس ڈی جی اہداف کے حصول میں ایک واضح کردار تفویض کرنے کی ضرور ت پر زور دیا ۔





