جمعرات, اگست 20, 2026
22.8 C
Srinagar

شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی 37ویں ایگزیکٹیو کونسل میٹنگ اور 23واں یوم تاسیس

گزشتہ 23برسوں کے دوران ایس ایم وِی ڈِی یو علم ، اِختراعات اور اقدار کا ایک روشن مینار بن کر اُبھری:لیفٹیننٹ گورنر

ایشین میل نیوزڈیسک

جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی (ایس ایم وِی ڈِی یو) ککریال کٹراہ میں یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل کی 37ویں میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میںوائس چانسلر ایس ایم وِی ڈِی یو پروفیسر پرگتی کمار،وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے، وائس چانسلر کشمیر پروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر و چیئریں بورڈ آف مینجمنٹ احمد آباد یونیروسٹی پروفیسر پنکج چندرا، سابق ڈائریکٹر راجیور گاندھی اِنسٹی چیوٹ آف پیٹرولیم ٹیکنالوجی امیٹھی پروفیسر اے ایس کے سنہا، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی جموں پروفیسر منوج سنگھ گوڑ، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، سی اِی او ، ایس ایم وِی ڈِی ایس بی سچ کمار واشیا۔رجسٹر ار ایس ایم وِی ڈِی یواجے کمار شرمااور ایگزیکٹیو کونسل کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
کونسل نے 200 بستروں پر مشتمل بوائز ہوسٹل کی جس کی مالی معاونت ایس ایم وِی ڈِی ایس بی کرے گا، اصولی منظوری دی اور اس کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اِس کے علاوہ دو نئے تعلیمی پروگراموں بی اے ایل ایل بی (آنرز) اور بی ٹیک ان فوڈ ٹیکنالوجی کے لئے بھی اصولی منظوری دی گئی نیز سائنس اور کامرس سٹریمز کے ساتھ ایل ایل بی پیش کرنے کے امکانات جانچنے کی تجویز دی گئی۔ مالی برس 2026-27 کے بجٹ تجاویز اور مالی برس 2024-25 کی حتمی آڈِٹ رپورٹ کو منظور کیا گیا اور قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں، ورکشاپوں اور تقریبات میں شرکت کرنے والے طالب علموں کے لئے مالی امداد میں اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔


کونسل نے ایس ایم وِی ڈِی ایس بی کے تعاون سے یونیورسٹی کیمپس میں سپورٹس کمپلیکس کی تکمیل و ترقی کی بھی منظوری دی تاکہ طالب علموں اور ملازمین کے لئے کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور فیصلہ کیا کہ اکیڈمک کونسل اور فائنانس کمیٹی کی مشاورت سے ایک قابلِ عمل آپریٹنگ ماڈل کی بنیاد پر یونیورسٹی کے لئے پانچ سالہ روڈ میپ حتمی شکل دیا جائے گا۔ ایگزیکٹویوکونسل نے یونیورسٹی کے مجوزہ ” کُل گیت “(ادارتی ترانہ )کو بھی منظور کیا۔کونسل نے یونیورسٹی کی تعلیمی، اِنتظامی اور مالی پیش رفت کا جائزہ لیا اور آئندہ تعلیمی سیشن کے لئے کئی اقدامات کی بھی منظوری دی۔ اِس کے علاوہ ایس ایم وِی ڈِی یو کی ایگزیکٹیوکونسل اور اکیڈمک کونسل میں بیرونی اراکین کی نامزدگی کی توثیق کی اور جاری و مکمل شدہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کی صحت و تندرستی، کھیلوں اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق اقدامات کو سراہتے ہوئے اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ طالب علموںکے لئے کونسلنگ، ذہنی صحت اور اقدار پر مبنی بیداری پروگرام منعقد کرے اور طالب علموں کی معاونت کے لئے آن لائن کونسلنگ پلیٹ فارموںسے رجوع کرے۔لیفٹیننٹ گورنرجو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، نے تجویز دی کہ قومی اہمیت کے حامل مقابلوں میں یونیورسٹی کی نمائندگی کے لئے منتخب ہونے والے این ایس ایس اور این سی سی طالب علموں کو تعلیمی رعایت دی جائے اور ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں اضافی کریڈٹس بھی دئیے جائیں۔ اُنہوں نے مزید تجویز دی کہ صنعت سے منسلک پیشہ ورانہ کورسز متعارف کئے جائیں جو داخلی فیکلٹی اور بیرونی ماہرین کے ذریعے پڑھائے جائیں اور اور اہلیت کے کم از کم معیار سے قطع نظر تمام طلبا¿ کے لئے کھلے ہوں۔وائس چانسلر ایس ایم وِی ڈِی یو پروفیسر پرگتی کمار نے ایگزیکٹیو کونسل کو داخلوں، بھرتیوں، فیکلٹی کیریئر ایڈوانسمنٹ، جاری تعمیراتی منصوبوں اور آئندہ تعلیمی سال کے لئے تجویز کردہ نئے تعلیمی پروگراموں سے متعلق اہم پیش رفتوں سے آگاہ کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے 23ویں یوم تاسیس سے خطاب کیا:لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی (ایس ایم وِی ڈِی یو) کی 23ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں شرکت کی۔ اُنہوں نے کامیاب طلبا¿ کو مُبار ک باد دِی او رایک کلیدی خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے مستقبل اور قسم کی تعمیر میں اس کے کردار کے بارے میں ایک ویژن کا خاکہ پیش کیا۔
اُنہوں نے یونیورسٹی سے عملے اور طلبا¿کو دِل سے مُبارک باد پیش کرتے ہوئے اس دن کو دُوراندیشی، عزم اور مسلسل کوششوں کی تقریب قرار دیا جس نے ایس ایم وِی ڈِی یو کوعلم، اِختراع اور سماجی ذمہ داری کا مرکزبنادیا ہے۔ اُنہوں نے اِس با ت پر زور دیا کہ کہ ماتا ویشنو دیوی نے اَپنے آشیرواد سے نوازا ہے ، اپنے نام میں عقیدت، قوت اور ایمان کی روایت لئے ہوئے ہے جو ہندوستان اور دُنیا بھر میں لاکھوںلوگوں کے لئے تحریک کا ذریعہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یونیورسٹی صرف عمارتوں سے نہیں بنتی بلکہ خیالات، خوابوں اور امکانات سے تشکیل پاتی ہے۔ اُنہوں نے ایسے اِداروں کی تعمیر میں دوراندیش قیادت، وقف شدہ فیکلٹی اور متجسس طلبا¿ کے کردار کو اُجاگر کیا جو صرف علم ہی نہیں بلکہ عاجزی، حساسیت اور معاشرے کے تئیں ذِمہ داری کو بھی پروان چڑھاتے ہیں۔
اُنہوں نے ایس ایم وِی ڈِی یو کے سفرپر روشنی ڈالتے ہوئے تعلیم اور تحقیق کے میدان میں یونیورسٹی کی کامیابیوں کو سراہا۔ اُنہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ارکان نے بین الاقوامی تعاون سمیت تقریباً 140 تحقیقی منصوبے حاصل کئے ہیں اور جدید ترین اے آئی اور ڈیپ لرننگ لیب قائم کی ہے۔ یونیورسٹی کو 14 پیٹنٹ حاصل ہوئے ہیں، 30 سٹارٹ اَپس کی انکوبیٹ کیا ہے اور پیئر لرننگ جیسے اِختراعی پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے یونیورسٹی پر زور دیا کہ پیٹنٹس اور اِختراعات کو تجارتی سطح پر لانے کے لئے اوپن ہاو¿س میٹنگوں کا اِنعقاد کرکے صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
منوج سِنہا نے اس بات پر زور دیا کہ کسی یونیورسٹی کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کے طلبا¿ اور سابق طلبا¿ ہوتے ہیں جو معاشرے اور قوم کے لئے اپنی خدمات کے ذریعے ادارے کی ساکھ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اُنہوں نے ایس ایم وِی ڈِی یو کو ترغیب دی کہ وہ حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے اقدامات بالخصوص 15 اگست 2026 ءکو وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اعلان کردہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے تحقیقی فنڈ اور رواں برس کے آغاز میں شروع کی گئی پی ایم ریسرچ چیئرز سکیم سے بھرپور فائدہ اُٹھائے تاکہ قومی سطح کی اِختراعی کوششوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
اُنہوںنے کہا،”عصری دنیا میں تحقیق اور اختراع اس وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ حقیقی مسائل کا حل تلاش کرتی ہے، معاشرے میں معیار زندگی کو بہتر کرتی ہے اور مختلف شعبوں میں اپنی شراکت کے ذریعے عام شہریوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتی ہے۔“وزیر اعظم نریندر مودی جی نے 15 اگست کو لا ل قلعے کی فصیل سے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے مختص کئے۔اُنہوں نے ملک کے نوجوانوں پر زو ردیا کہ وہ تحقیق اور اختراع پر توجہ مرکوز کریں اور بلند حوصلہ خوابوں کے ساتھ آگے آئیں۔ مرکزی حکومت نے مالی معاونت کا ایک مضبوط نظام قائم کیا ہے اور اب کسی نوجوان کو وسائل کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”میں چاہتا ہوں کہ وائس چانسلر ایک ٹیم تشکیل دیں جس میں فیکلٹی ممبران اور منتخب طلبا¿ شامل ہوں تاکہ اس یونیورسٹی سے زیادہ سے زیادہ درخواستیں جمع کی جا سکیں۔“
اُنہوں نے اَپنے خطاب میںکہاکہ تعلیم یونیورسٹیوں، معاشرے اور قوم کے لئے سب سے مو¿ثر سرمایہ کاری ہے۔ اُنہوں نے غیر ملکی جامعات کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اِختراع اور تحقیق کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اُنہوں نے ہندوستانی یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ تحقیق، اختراع، قیادت اور کاروباری صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسی طرح کی بلندیوں کو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستانی یونیورسٹیوں کو درپیش اہم چیلنجوں کی نشاندہی کی جن میں محدود تحقیق، فیکلٹی کی کمی، جواب دہی کا فقدان اور صنعتی روابط شامل ہیں۔ اُنہوں نے سوچ میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اداروں سے کہا کہ وہ یہ سوال نہ کریں کہ ”ہمیں کیا سیکھانا چاہیے؟“ بلکہ یہ سوچیں کہ ”ہمیں کن مسائل کو حل کرنا ہے؟“
اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی، تخلیقی صلاحیت اور خطرات مول لینے کی صلاحیت ملک کے سب سے بڑے اثاثے ہیں اور یونیورسٹیوںکو طلبا¿کو محض ملازمت کے متلاشی افراد کے بجائے مواقع پیدا کرنے والے تخلیق کاروں میں تبدیل کرنا چاہیے۔اُنہوں نے ہندوستان کی طاقتوں کو اُجاگر کرتے ہوئے ملک میں کم خرچ میں اختراع کرنے کی صلاحیت، اس کی ثقافتی و لسانی تنوع اور اس کی وسیع بیرون ملک آبادی کی طرف اشارہ کیا ۔ اُنہوں نے ایس ایم وِی ڈِی یو پر زور دیا کہ وہ ان صلاحیتوں کو اپنے تحقیقی نظام سے جوڑتے ہوئے صحت عامہ، دیہی معیشت، شہری کاری اور ڈیجیٹل اختراع جیسے حقیقی دنیا کے چیلنجوں کے حل تیار کرے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جامع تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کھیلوں، فنون، ادب، مباحثوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ فروغ دینا چاہیے۔ اُنہوں نے یونیورسٹی کو دیہی کمیونٹیوں کے ساتھ روابط بڑھانے،دیرپا ترقی کو فروغ دینے اور عالمی تعلیمی ماڈلز جیسے کہ فیلڈ ورک، صنعتی شراکت داری، اور مضبوط پیشہ ورانہ تربیتی نظام کے بہترین طریقوں کو اپنانے کی ترغیب دی۔
اُنہوں نے مستقبل کے حوالے سے 2040 تک ایس ایم وِی ڈِی یو کے لئے ایک جامع ویژن پیش کیا۔ اُنہوں نے یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ ایک معروف عالمی علمی مرکز بنے، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، روبوٹکس، بائیوٹیکنالوجی اور ماحولیاتی سائنس کے شعبوں میں جدید تحقیقی سہولیات قائم کرے اور دیہی جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل لرننگ نیٹ ورکس تیار کرے۔ اُنہوں نے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے بین الاقوامی طلبا¿کے تبادلے کے پروگراموں پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کا حتمی مقصد صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ ایسے تخلیقی انسانوں کی تشکیل بھی ہے جو خود کو سمجھیں، فطرت کا احترام کریں اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ اُنہوں نے ایس ایم وِی دِی یو پر زور دیا کہ جدیدیت کو انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرے اور علم کا ایک زیارت گاہ، اختراع کی تجربہ گاہ اور معاشرے کو ترقی کی جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار بننے کا عزم کرے۔
اُنہوں نے کہا،” اس یوم تاسیس کے موقعہ پر میں آپ سب سے گزارش کرتاہوں کہ قائم شدہ راستوں سے آگے بڑھیں اور اہم مسائل پر ہمت کے ساتھ کام کریں۔“لیفٹیننٹ گورنر نے کٹرا ہ میں جدید ترین دیوی میوزیم کے قیام کے لئے مختلف شراکت داروں سے تجاویز بھی طلب کیں۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے ایس ایم وِی ڈِیو یو میں سیلف ہیلپ گروپ کے بیکری یونٹ کا اِفتتاح بھی کیا۔یو م تاسیس کی تقریبا ت میں ڈاکٹر اشوک بھان، سریش کمار شرما اورگنجن رانا، شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے اراکین؛ لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، وائس چانسلر شری ماتا ویشنودیوی یونیورسٹی پروفیسر پرگتی کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی ، صوبائی کمشنر جموںرمیش کمار، چیف ایگزیکٹیو آفیسر شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ سچن کمار واشیا، ڈِی آئی جی اودھمپور۔ ریاسی رینج شیو کمار شرما، ضلع ترقیاتی کمشنر ریاسی کمار ابھیشیک، یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے اراکین؛ مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان؛ سینئر افسران، فیکلٹی ارکان، عملہ اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے طالب علموں نے شرکت کی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img