جمعرات, اگست 20, 2026
22.8 C
Srinagar

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے علی الصبح سری نگر کی ترقیاتی صورتحال کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ نے صبح سویرے سری نگر کے دورے کے دوران اہم بنیادی ڈھانچے ، صحت ، ورثے اور کھیلوں کے منصوبوں کا جائزہ لیا


تمام آٹھ اسمبلی حلقوں کے منصوبوں کا معائینہ کیا ، ٹریفک کا دباﺅکم کرنے ، بہترعوامی سہولیات او رترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل پر زور

سری نگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج صبح سویرے سری نگر شہر کا تفصیلی دورہ کیا اور تمام آٹھ اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرتے ہوئے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا، اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا معائینہ کیا اور عوامی سہولیات و شہری خدمات کی زمینی سطح پر فراہمی کا جائزہ لیا۔وزیر اعلیٰ نے تقریباً صبح ساڑھے چھ بجے دورے کا آغاز کرتے ہوئے سڑکوں اور ٹریفک کے بنیادی ڈھانچے، صحت عامہ، ورثے کے تحفظ، کھیلوں کی سہولیات اور دیگر شہری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق متعدد اہم مقامات کا دورہ کیا۔ اُنہوں نے اَفسران اور تعمیراتی اِداروں کے ساتھ منصوبوں کی زمینی پیش رفت کا جائزہ لیا اور کاموں کی بروقت تکمیل پر زور دیا تاکہ ان کے مطلوبہ فوائد جلد از جلدلوگوںتک پہنچ سکیں۔اُنہوں نے حبہ کدل کے بربر شاہ علاقے میںژونٹ ک.ل پر مجوزہ ملٹی سپین پُل کے مقام کا معائینہ کیا۔ اس منصوبے کا مقصدشہرخاص تک رابطے کو بہتر بنانا اور علاقے میں ٹریفک کے دباو¿ کو کم کرنا ہے۔یہ پُل محکمہ پی ڈبلیو (آر اینڈ بی)سری نگر کور ڈویژن کی طرف سے 32.50 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے جسے آئی آر سی کوڈل معیارات اور ایم او آر ٹی ایچ کی تصریحات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور سیسمک زون ۔V کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ پُل شہر خاص کی جانب جانے والے مسافروں کی آمدورفت کو آسان بنانے، ٹریفک کی روانی کو منظم کر نے ، سڑکوں کی حفاظت کو بہتر بنانے اور شہر کے تاریخی مرکزی علاقے میں شہری آواجاہی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
اُنہوںنے مہاراج گنج میں اربن پرائمری ہیلتھ سینٹر (یو پی ایچ سی) کی نئی تعمیر شدہ عمارت کا بھی معائینہ کیا۔ شہرِ خاص کے تاریخی مرکز میں واقع یہ اَپ گریڈ شدہ سہولیت بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے پرائمری ہیلتھ کیئر کی فراہمی اور مریضوں کی نگہداشت کو مضبوط بنانے کے لئے بنائی گئی ہے۔پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت یوٹی کیپکس کے تحت 262.54 لاکھ روپے ہے اور اسے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کشمیر کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ کام نومبر 2024 ءمیں شروع ہوا تھا اور اس کی تکمیل 20 نومبر 2026 ءتک متوقع ہے۔وزیر اعلیٰ کو طبی سہولیت کے معائینے کے دوران بتایا گیا کہ اینٹوں کا کام، اندرونی پلستر، دروازوں اور کھڑکیوں کا فریم، تینوں منزلوں پر ٹائلوں کا کام اور کھڑکیوں کو ٹھیک کرنے کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ بجلی کاکام تقریباً 85 فیصد مکمل ہو چکا جبکہ فائر فائٹنگ سسٹم بھی مکمل کیا گیا ہے۔ ملحقہ عمارت (سٹرکچر ۔بی) کی چھتیں بھی مکمل کی گئی ہیںاور اوور ہیڈ واٹر ٹینک بھی نصب کردئیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرزا کامل صاحب چوک حول میںخوبصورتی، اَپ گریڈیشن اور جنکشن کی بہتری کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس منصوبے کا مقصد ٹریفک کے انتظام، پیدل چلنے والوں کی آواجاہی اور اہم شہری جنکشن کی مجموعی خوبصورتی کو بہتر بنانا ہے۔اِس منصوبے کی لاکت یوٹی سیکٹر کے تحت 132.85 لاکھ روپے ہے۔ مجوزہ کاموں میں موجودہ سڑک کی سطح کی اَپ گریڈیشن، پیدل چلنے والوں کے لئے موزوں فٹ پاتھوں کی تعمیر، نئے کربس اور نکاسی آب کا انتظام، سڑکوں پر نشانات، ٹریفک سائن بورڈز، بولارڈز، ڈیلی نیٹرز اور گلو سٹیڈز کی تنصیب شامل ہے۔ اِس منصوبے میں پیدل چلنے والوں کی حفاظت کو بڑھانے کے لئے جدید ایل اِی ڈی سٹریٹ لائٹنگ، آرائشی روشن تتلی اور درختوں کے مجسمے اور پیدل چلنے والوں کے کراسنگ پرسولر ٹریفک بلنکرز بھی فراہم کئے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے حضرت بل حبک میں سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال (ایس ڈِی ایچ) حبک کی نئی عمارت کی جاری تعمیر کا معائینہ کیا اور طویل عرصے سے زیرِ اِلتوا¿ منصوبے پر جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔یہ منصوبہ کافی عرصے سے تعطل کا شکار تھا، تاہم موجودہ وزرا¿ کی کونسل کی جانب سے مطلوبہ قواعد میں نرمی کی منظوری کے بعد اسے دوبارہ شروع کیا گیاجس سے علاقے میں طبی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔وزیراعلیٰ نے سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال حبک حضرت بل کی جاری اَپ گریڈیشن کا معائینہ کیا۔ اس منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 54.49 کروڑ روپے ہے اور اس کے تحت دو بیس منٹس، چار منزلہ عمارت اور 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال قائم کیا جائے گا۔ اُنہوں نے متعلقہ حکام کو کام کی رفتار برقرار رکھنے اور مقررہ مدت کے اندر اَپ گریڈ شدہ سہولیت کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت دِیاِس کے بعداُنہوںنے عیدگاہ میں تاریخی عالی مسجد کے جاری تحفظ اور بحالی کے کام کا معائینہ کیا جو محکمہ ثقافت کی جانب سے انجام دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے صدیوں پرانی اس تاریخی، تعمیراتی اور روحانی اہمیت کی حامل عمارت کی غیر معمولی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ عمارت کے تاریخی تشخص اور ورثے کی قدر کو برقرار رکھتے ہوئے تحفظ و بحالی کا کام انتہائی احتیاط سے اور بروقت مکمل کیا جائے۔اِس تحفظ و بحالی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت 487.94 لاکھ روپے ہے اور اسے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی ) کشمیر کی جانب سے محکمہ آرکائیوز کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ کام جولائی 2025 ءمیں شروع ہوا تھا اور اکتوبر 2026 ءتک مکمل ہونے کی اُمیدہے۔منصوبے میں واٹر پروف سیمنٹ کنکریٹ کا کام، لکڑی کا فرش، سی جی آئی شیٹس اور پینٹنگ، ختم بند کاری، پیپر ماشی، دیوری کی تراش خراش، چھت کو مضبوط بنانا، ایشلر پتھر کا کام اور دیوری کارنیس شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ چھت، مسجد کے اندرلکڑی کے فرش اور ختم بند کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے سری نگر بائی پاس (این ایچ۔44) پرپارم پورہ اور شالہ ٹینگ جنکشن پر فلائی اوورز کی تعمیر پر مشتمل سڑک کی حفاظت کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔اِس منصوبے کو روڈ سیفٹی ورکس کے تحت اِی پی سی موڈ میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس کی مجموعی لمبائی تقریباً 2,000 میٹر ہے جس میں پارم پورہ میں 105 میٹر اور شالہ ٹینگ میں 92 میٹر کے اونچے حصے شامل ہیں۔ چھ لین پر مشتمل اس سہولیت کے لئے مقررہ کیرج وے ترتیب کے مطابق ڈیک کی چوڑائی 14 میٹر ہے جبکہ اس میں اپروچ روڈز، سروس روڈز، نکاسی آب اور یوٹیلیٹی کوریڈورز بھی شامل ہیں۔اس منصوبے کی تخمینہ لاگت 85 کروڑ روپے ہے اور اس کی تکمیل کی مدت 48 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرس کی مضبوطی کا کام مکمل کیاگیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سکمزمیڈیکل کالج و ہسپتال بمنہ میں دو اہم ادارہ جاتی عمارتوں250 بستروں پر مشتمل آئی پی ڈِی بلاک اور کالج ولیبارٹری بلاک کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔250 بستروں پر مشتمل آئی پی ڈِی بلاک کی منظور شدہ لاگت 83.94 کروڑ روپے ہے۔ منصوبے پر 80 فیصد تعمیراتی پیش رفت حاصل ہو چکی ہے اور اسے دسمبر 2026 ءتک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کالج ولیبارٹری بلاک کی منظور شدہ لاگت 88.23 کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے پر 66 فیصد تعمیراتی پیش رفت ہو چکی ہے اور اسے دسمبر 2027 ءتک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
وزیراعلیٰ نے بمنہ کے رکھِ اکشا میں نئے ہائی کورٹ کمپلیکس کے مجوزہ مقام کا بھی معائینہ کیاجس کی لاگت 908.20 کروڑ روپے کی منظور شدہ ہے۔مرکزی عمارت جس میں دو بیس منٹس، گراو¿نڈ فلور اور چھ بالائی منزلیں شامل ہوں گی، میں عدالتیں، جج صاحبان کے چیمبرز اور لاو¿نج، بار رومز، میٹنگ رومز اور پوڈیم پارکنگ قائم کی جائے گی۔مجوزہ ویسٹرن بلاک میں دو بیس منٹس، گراو¿نڈ فلور اور پانچ بالائی منزلیں ہوں گی جہاں جوڈیشل برانچ، رجسٹرار چیمبرز، لائبریری، وکلا کے چیمبرز، کیفے ٹیریا، میڈیکل برانچ، آرکائیوز اور پوڈیم پارکنگ قائم کی جائے گی۔ ایسٹرن بلاک میں بھی دو بیس منٹس، گراو¿نڈ فلور اور پانچ بالائی منزلیں ہوں گی جہاں انتظامی برانچ، رجسٹرار چیمبرز، مراقبہ چیمبر، وکلا کے چیمبرز، کیفے ٹیریا، آرکائیوز اور پوڈیم پارکنگ شامل ہوں گے۔ ان دونوں بلاکوں کے لئے ابھی ٹینڈر جاری ہونا باقی ہے۔اِس پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں پولیس کانسٹیبلری، جوڈیشل بلاک، گیسٹ ہاو¿س، آڈیٹوریم اور رہائشی کوارٹرز بھی تعمیر کئے جانے ہیں۔ پورے کمپلیکس میں مجموعی طور پر 1,600 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش رکھی گئی ہے جس میں مرکزی عمارت کے پوڈیم۔اول میں 265 اور پوڈیم۔دوم میں 115 پارکنگ کی جگہیں شامل ہیں۔اس کے بعد وزیراعلیٰ نے مومن آباد وہیکل انڈر پاس (وِی یو پی) کے مجوزہ مقام کا معائینہ کیا جس کا مقصد ٹریفک کے دباو¿ کو کم کرنا اور قومی شاہراہ پر آمدورفت کو بلا رکاوٹ بنانا ہے۔
مجوزہ چار لین والا آر سی سی ٹی۔بیم سلیب طرز کا انڈر پاس 22.50 میٹر کے مرکزی کیرج وے، دونوں جانب پختہ شولڈرز کے ساتھ سروس روڈز، ایک کلومیٹر طویل مرکزی کیرج وے اپروچ اور نکاسی آب و یوٹیلیٹی کوریڈورز پر مشتمل ہوگا۔ وایاڈِکٹ میں عمودی کلیئرنس 5.5 میٹر ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے ٹریفک سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیاجن میں نوگام ریلوے سٹیشن پر انڈر پاس اور بمنہ کے چلڈرن ہسپتال کے مقام پر فٹ اوور برج شامل ہیں۔نوگام انڈر پاس میں 25 میٹر کا مرکزی کیرج وے، دونوں جانب سروس روڈز اور 5.5 میٹر کی عمودی کلیئرنس ہوگی جبکہ 270 میٹر طویل ریلوے اپروچ روڈ بھی تعمیر کی جائے گی۔ چلڈرن ہسپتال بمنہ کے مقام پر مجوزہ فٹ اوور برج کی لمبائی 48.5 میٹر اور چوڑائی 3.19 میٹر ہوگی۔ اس میں سٹیل فیبری کیشن اور دونوں جانب سیڑھیاں شامل ہوں گی۔ معذور افراد، بزرگ شہریوں اور خواتین کے لئے لفٹ کی سہولیت بھی تجویز کی گئی ہے۔ان تمام کاموں کے لئے مجموعی طور پر 31.52 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گندن سپورٹس کمپلیکس راجباغ میںحال ہی میں مکمل کئے گئے مرکزی سوئمنگ پول کا معائینہ کیا۔ یہ ایک جدید ترین آبی سہولیت ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر میں مسابقتی تیراکی، غوطہ خوری اور دیگر آبی کھیلوں کو فروغ دینا ہے۔یہ منصوبہ 2014 ءمیں شروع کیا گیا تھا، تاہم 2019-20 کے دوران فنڈز کی کمی کے باعث طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہا۔ بعد میں اسے بحال کردیا گیا۔ یہ سہولیت نومبر 2025 ءمیں مکمل ہوئی اور جولائی 2026 ءمیں اسے باضابطہ طور پر استعمال کے لئے شروع کیا گیا۔ منصوبے پر 20.60 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔
بین الاقوامی معیار کی اس سوئمنگ سہولیت میں 50 میٹر × 25 میٹر کا پول ہے جس میں 10 لین ہیں۔ پول کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 3.88 میٹر جبکہ کم از کم گہرائی 1.40 میٹر ہے۔ اِس میں ایک، تین اور پانچ میٹر اونچے ڈائیونگ پلیٹ فارم بھی موجود ہیں۔اِس سہولیت میں مرد و خواتین کے لئے علیحدہ چینجنگ رومز اور واش رومز، 50 سٹوریج لاکرز، 300 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش، جدید فلٹریشن اور جراثیم کشی کے نظام، لائف گارڈ اور پول مینجمنٹ کی سہولیات، آلات رکھنے کی جگہ، خصوصی افراد کے لئے رُکاوٹوں سے پاک رسائی اور فائر سیفٹی و ایمرجنسی اِنتظامات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے گندن راج باغ میں ٹریننگ کم ٹوڈلر/آل ویدر ہیٹیڈ پول کی سہولیت کا بھی جائزہ لیا اور نو تعمیر شدہ جمناسٹک ہال کا معائینہ کیا۔وزیرا علیٰ نے دورے کے بعد خطاب کرتے ہوئے اس وسیع دورے کو سری نگر کی اہمیت کا اعتراف اور جموں و کشمیر کے دونوں دارا لخلافائی شہریوںپر توجہ دینے کی ضرورت قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ وزٹ سے منصوبوں کی اصل صورتحال کا جائزہ لینے اور سیکرٹریٹ میں دستیاب معلومات کے ساتھ اس کا موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ کے ہمراہ نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو، وزیر کھیل ستیش شرما، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر، رُکن اسمبلی حبہ کدل شمیم فردوس، ایم ایل اے عیدگاہ مبارک گل، ایم ایل اے زڈی بل تنویر صادق، ممبر قانون ساز اسمبلی حضرت بل سلمان علی ساگر، رُکن اسمبلی چھانہ پورہ مشتاق گورو اور ایم ایل اے لال چوک شیخ احسان احمد بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری امورِ نوجوان و کھیل کود ،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر، کمشنر سری نگر میونسپل کارپوریشن، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، انجینئر اِن چیف آر اینڈ بی، سیکرٹری سپورٹس کونسل، تعمیراتی اداروں کے سینئر انجینئران اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکار بھی دورے کے دوران وزیراعلیٰ کے ہمراہ رہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img