سرینگر: پیر کے روز ہونے والی شدید بارش نے سرینگر کے متعدد نشیبی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جس کے باعث شہر بھر میں وسیع پیمانے پر پانی جمع ہو گیا اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
وادی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کے بعد ہونے والی موسلا دھار بارش سے سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، جبکہ بشوارہ ڈل گیٹ علاقے میں رہائشی مکانات، دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی پانی داخل ہو گیا۔
ڈل جھیل کے کنارے واقع سرینگر کی مصروف ترین سیاحتی شاہراہ بولیوارڈ روڈ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور مسافروں، سیاحوں اور مقامی تاجروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سڑک کے طویل حصے بارش کے پانی میں ڈوبے دکھائی دیے، جبکہ گاڑیاں سیلابی پانی سے گزرنے میں دشواری کا شکار رہیں۔
مقامی رہائشیوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ بارش کا پانی متعدد گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں داخل ہو گیا، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان کا الزام ہے کہ نکاسیٔ آب کا ناقص نظام معمولی سے درمیانے درجے کی بارش کو بھی بار بار ایک شہری بحران میں تبدیل کر دیتا ہے۔
جے وی سی اسپتال بھی پانی میں ڈوب گیا، جس کے باعث مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔پانی جمع ہونے کے اس تازہ واقعے کے بعد سرینگر اسمارٹ سٹی منصوبے کی افادیت پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ کاری کے باوجود شدید بارش کے بعد شہر کی اہم شاہراہیں اور تجارتی علاقے مسلسل زیرِ آب آ جاتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نکاسیٔ آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔
ادھر حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں سے جمع شدہ پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ (کے این ٹی)





