نئی دہلی،: حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کالا بازاری روکنے اور اسے ضابطے میں لانے کے لیے ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کے تحت نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی گاڑی یا شخص کو ایک دن میں پٹرول پمپ پر 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل نہیں ملے گا۔ نئے ضابطے سے طویل اور درمیانی دوری کے مال بردار ٹرکوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جانب سے جمعرات کی دیر رات جاری نوٹیفکیشن میں ریٹیل سیل سینٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈیزل کی فروخت صرف گاڑیوں کے ٹینک یا پیسو (پٹرولیم اینڈ ایکسپلوسو سیفٹی آرگنائزیشن) سے منظور شدہ کنٹینر میں ہی کریں گے۔ ایک دن میں ایک گاہک یا گاڑی کو 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت نہیں کریں گے۔ ایسے گاہکوں کے لیے بھی ڈیزل کی دوبارہ فروخت کی ممانعت ہوگی۔حکم نامے میں فی الحال پٹرول کی ریٹیل فروخت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے، لیکن مستقبل میں ایسا کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی، ڈیزل کے ساتھ اس کی بھی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے کارروائی کا التزام ہے۔ فوری اثر سے لاگو اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ادارہ جاتی اور براہ راست یا صنعتی اور تجارتی گاہک ریٹیل سیل سینٹر سے پٹرول یا ڈیزل نہیں خریدیں گے یا منگوائیں گے۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف اپنے کنزیومر پمپ کا استعمال کریں گے۔
یواین آئی