فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیاکی فوڈ بزنسز کو ہدایت
ایشین میل نیوزڈیسک
سری نگر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا ’ایف ایس ایس اے آئی‘نے تمام ہوٹلوں، ریستورانوں، کیفے، ڈھابوں، مٹھائی کی دکانوں، بیکریوں اور کیٹررز کو ہدایت دی ہے کہ وہ نمایاں جگہوں پر فوڈ سیفٹی انفارمیشن بورڈز آویزاں کریں اور کھانے کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے گوشت کی مخصوص قسم واضح طور پر درج کریں۔’ایف ایس ایس اے آئی‘کی ایک ایڈوائزری کے مطابق، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز رولز،2011 اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (فوڈ بزنسز کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن) ریگولیشنز،2011 ہر فوڈ بزنس آپریٹر پر یہ قانونی ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ فروخت کے لیے پیش کیا جانے والا کھانا محفوظ ہو، اس کی درست وضاحت کی جائے اور صارفین کو گمراہ نہ کیا جائے۔
’ایف ایس ایس اے آئی‘نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (فوڈ بزنسز کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن) ریگولیشنز، 2018 کے تحت ریستورانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت نمایاں جگہ پر فوڈ سیفٹی ڈسپلے بورڈ آویزاں رکھیں۔لائسنس کی شرائط کے تحت ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر ایسے فوڈ اداروں کے مالکان جو نمکین اشیا، مٹھائیاں یا دیگر کھانے کی اشیا فروخت کرتے یا فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں، انہیں ایک نوٹس بورڈ آویزاں کرنا ہوگا جس پر گھی، خوردنی تیل، ونسپتی اور دیگر خوردنی چکنائیوں سے تیار کی جانے والی اشیائے خوردنی کی الگ الگ فہرستیں موجود ہوں، تاکہ خریداروں کو مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر وہ فوڈ بزنس آپریٹر جو پکا ہوا یا تیار شدہ کھانا فروخت کرتا ہے، اسے ایک نوٹس بورڈ آویزاں کرنا ہوگا جس پر فروخت کے لیے پیش کی جانے والی کھانے کی اشیا کی نوعیت درج ہو۔تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان قانونی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد کریں اور اپنے اداروں کے اندر نمایاں اور واضح جگہ پر فوڈ سیفٹی انفارمیشن بورڈ آویزاں کریں، جس پر (ایف ایس ایس اے آئی) لائسنس نمبر اور کسٹمر کیئر نمبر سمیت ضروری تفصیلات درج ہوں۔شفافیت کو یقینی بنانے اور کھانے کی اشیا سے متعلق گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لیے (ایف ایس ایس اے آئی) نے کہا ہے کہ ہر وہ فوڈ بزنس آپریٹر جو گوشت یا گوشت سے بنی اشیا پیش کرتا ہے، اسے ہر کھانے میں استعمال کیے جانے والے گوشت کی مخصوص قسم واضح طور پر بتانا ہوگی، مثلاً مٹن، بیف، چکن، مچھلی یا کوئی اور گوشت۔
یہ معلومات، جہاں قابلِ اطلاق ہو، مینو کارڈ، فوڈ سیفٹی انفارمیشن بورڈ اور ڈسپلے کاو¿نٹر یا مینو ڈسپلے پر درج کی جانی چاہیے۔ایڈوائزری میں خاص طور پر کاروباری اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’میٹ کری‘، ’میٹ بریانی‘، ’میٹ کباب‘یا صرف ’نان ویجیٹیرین‘جیسی عمومی اصطلاحات استعمال کرنے سے گریز کریں، اگر ان میں گوشت کی مخصوص قسم واضح نہ کی گئی ہو۔آویزاں کی جانے والی معلومات درست، واضح، صارفین کو آسانی سے نظر آنے والی اور ہر وقت تازہ ترین ہونی چاہیے۔’ایف ایس ایس اے آئی‘نے تمام نامزد افسران اور فوڈ سیفٹی افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں فوڈ بزنس آپریٹرز تک یہ ایڈوائزری پہنچائیں اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کے تحت ہونے والے معائنوں کے دوران اس پر عمل درآمد کی تصدیق کریں۔ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایکٹ، قواعد اور ضوابط کی متعلقہ دفعات کی عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔





