پاکستان زیر ِ قبضہ جموں وکشمیر میں شہریوں کے قتلِ عام پر تشویش
جموں/جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اعلیٰ ، سنیل سیٹھی نے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں بڑے پیمانے پر شہریوں کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں ایک سو سے زائد افراد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں رہنے والے ان لوگوں کا واحد ’جرم‘ یہ ہے کہ وہ ترقی اور اپنے بنیادی حقوق کے اعتراف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک تحریری بیان میں سنیل سیٹھی نے کہا کہ پی او جے کے کے عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو کر انتہائی کربناک زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بالخصوص نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد جموں و کشمیر کے ترقیاتی ماڈل کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے لیے بھی وہی حقوق چاہتے ہیں، لیکن جواب میں انہیں گولیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی او جے کے کے وہ باشندے جو قانونی طور پر بھارت کا حصہ ہیں اور1947-48 میں کانگریس قیادت کی ناکامی کے باعث یہ علاقے واپس حاصل نہ کیے جا سکے، آج بھی اس آزادی کے منتظر ہیں جو انہیں کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق برصغیر کا یہ واحد خطہ ہے جہاں عوام اب بھی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔بھاجپا کے ترجمان ِ اعلیٰ نے کہا کہ پی او جے کے کی صورتحال جموں و کشمیر میں پاکستان کے حامی عناصر کے لیے ایک سبق ہونی چاہیے، جو نسل در نسل نوجوانوں کو گمراہ کرکے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے ایک ناکام ریاست ثابت ہوا ہے اور آج پی او جے کے میں بھی وہی غلطیاں اور مظالم دہرائے جا رہے ہیں جو ماضی میں بنگلہ دیش میں کیے گئے تھے اور ان کے نتائج بھی مختلف نہیں ہوں گے۔سنیل سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کی گولیوں کی بارش پی او جے کے کے عوام کے دلوں میں آزادی کی جلتی ہوئی شمع کو بجھا نہیں سکتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی ایجنسیاں پی او جے کے میں ہونے والی ہلاکتوں اور عوام پر مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت، بالخصوص جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت یا مشکوک شے کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔





