جمعرات, جون 11, 2026
28.8 C
Srinagar

سی بی آئی نے بانڈی پورہ میں پی ایم ای جی پی قرض گھوٹالے میں 19 افراد اور نامعلوم افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا

سری نگر،: مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں وزیرِ اعظم روزگار تخلیق پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت قرضوں کی منظوری اور ان کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں 19 افراد، جموں و کشمیر بینک کے نامعلوم افسران اور نامعلوم سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

پی ایم ای جی پی ایک مرکزی سرکاری اسکیم ہے جو دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ سی بی آئی نے گزشتہ ہفتے ایف آئی آر درج کی تھی، جس کے مطابق یہ معاملہ 2022 سے سمبل میں جموں و کشمیر بینک کی شاخ میں متعدد پی ایم ای جی پی قرضوں کی منظوری کے سلسلے میں مبینہ مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ خیانت اور بدعنوانی سے متعلق ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بینک کے نامعلوم افسران نے مبینہ طور پر ملزم مستفیدین اور نجی افراد کے ساتھ مل کر متعدد پی ایم ای جی پی قرضوں کی منظوری حاصل کرنے کی سازش کی۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ مستفیدین کو جاری کی گئی قرض کی رقم بعد میں جعلی اور فرضی رسیدوں اور بلوں کے ذریعے ملزمان کے کھاتوں میں منتقل کر دی گئی۔

سی بی آئی نے کہا کہ نامعلوم سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے فنڈز کا غلط استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں بینک اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا، جبکہ اس سے ملزمان اور نامعلوم سرکاری ملازمین کو ناجائز فائدہ حاصل ہوا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ فنڈز کی دوسری جگہ منتقلی سے بادی النظر میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نامعلوم سرکاری ملازمین نے مجرمانہ بدعنوانی کا ارتکاب کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خرد برد یا ان کا غلط استعمال کیا۔

یہ مقدمہ 19 ملزمان، کے وی آئی بی، کے وی آئی سی، ڈی آئی سی کے نامعلوم سرکاری ملازمین، بینک افسران اور نجی افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی، 409، 420، 468 اور 471، نیز انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعات 13(1)(اے) اور 13(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے انسپکٹر رینک کے ایک افسر کے سپرد کی گئی ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img