سری نگر، : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےجمعہ کو کہا کہ آرٹیکل 370 کبھی بھی سابق ریاست میں ترقی نہ ہونے کا سبب نہیں تھا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس کی منسوخی کے بعد بھی خطے میں کوئی غیر معمولی معاشی تبدیلی نہیں آئی۔
"دی ہندو ” سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو درپیش ترقیاتی اور معاشی چیلنجز کی بنیادی وجہ دہائیوں پر محیط تشدد اور عدم استحکام تھا، نہ کہ اس کا سابقہ خصوصی آئینی درجہ۔
انہوں نے کہا، "آرٹیکل 370 کبھی بھی جموں و کشمیر میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھا اور نہ ہی اس کی منسوخی کے نتیجے میں اچانک بڑے پیمانے پر ترقی ہوئی ہے۔”
نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں کی عسکریت پسندی نے خطے کی معیشت کو نقصان پہنچایا، کیونکہ اس کے باعث سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں نے جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری سے گریز کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا، "لوگ ملک کے اس حصے میں سرمایہ کاری نہیں کرتے جسے وہ غیر محفوظ سمجھتے ہوں۔ جموں و کشمیر کے بارے میں یہ تاثر کہ یہ سیاحت یا کاروبار کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے، ہمارے نقصان کا اصل سبب تھا، آرٹیکل 370 نہیں۔”
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام عائد کیا کہ وہ آرٹیکل 370 کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے اور کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے آئینی تحفظات موجود ہیں لیکن ان پر تنقید نہیں کی جاتی۔
عمر عبداللہ نے نشاندہی کی کہ لکشدیپ اور شمال مشرقی ریاستوں کے بعض علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت اور داخلے کے اجازت ناموں سے متعلق پابندیاں آج بھی موجود ہیں، لیکن ان پر شاذ و نادر ہی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "صرف جموں و کشمیر کے بارے میں بات کی جاتی تھی اور یہ مسئلہ اٹھایا جاتا تھا کہ وہاں زمین نہیں خریدی جا سکتی۔ یہی وہ ہتھیار تھا جس سے ہمیں نشانہ بنایا جاتا تھا۔”
جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس کی بحالی کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا، "میرا ہدف ریاستی درجہ حاصل کرنا ہے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے کن اہداف کو پورا کرنا ہوگا۔”
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ ملنے کے بعد حکمرانی کا نظام مزید بہتر ہوگا، کیونکہ موجودہ مرکزی زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) کے ڈھانچے میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔
انہوں نے کہا، "ریاست ہونا یونین ٹیریٹری ہونے سے بہتر ہے اور ہم اسی صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”




