سرینگر، : جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے سیاسی جماعتوں کی شناخت کو وقتی طور پر معطل کرکے ایک مشترکہ جمہوری تحریک شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔
دی ہندو سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر سب مخلص ہیں تو آئیں سیاسی جماعتوں کو معطل کرکے ایک مشترکہ تحریک کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں۔ ہمیں جمہوری اور پُرامن طریقے سے اس وقت تک جدوجہد کرنی چاہیے جب تک 2019 میں چھینے گئے آئینی حقوق اور تحفظات بحال نہیں ہو جاتے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ایسی متحدہ تحریک وجود میں آتی ہے تو وہ ذاتی سیاسی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں سب سے پہلے استعفیٰ دوں گا۔ نمائندے ایک مشترکہ تحریک کے پلیٹ فارم سے سامنے آئیں۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ حقوق کی بحالی کے لیے کوئی بھی کوشش مسلسل ہونی چاہیے اور محض علامتی اقدامات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر اخلاص اور تسلسل نہ ہو تو لوگ اسے ڈرامہ قرار دیں گے۔ یہ ایک وقتی مشق نہیں ہو سکتی۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کو مذہبی بنیادوں پر انتہا پسند بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور خبردار کیا کہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جب آپ دیکھتے ہیں کہ ملک کے بالخصوص شمالی حصے میں نوجوانوں کو مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور یہ سب برسرِ اقتدار جماعت کے زیرِ اثر ہو رہا ہے، تو پھر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس کے اثرات دیگر علاقوں پر نہیں پڑیں گے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ یہ تصور غلط ہے کہ ہر نوجوان مسلمان، خصوصاً ہر نوجوان کشمیری مسلمان، عسکریت پسندی کی طرف مائل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کچھ عناصر نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ پروپیگنڈا کہ ہر نوجوان کشمیری مسلمان لڑکا ایک جہادی ہے جو ہتھیار اٹھا کر بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔‘‘
اپریل 2025 کے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد کی تحقیقات میں حملہ آوروں میں کسی مقامی کشمیری نوجوان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’جب تحقیقات مکمل ہوئیں اور حملے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کی گئی تو حملہ آوروں میں ایک بھی مقامی کشمیری نوجوان شامل نہیں تھا۔ وہ سب جموں و کشمیر سے باہر کے تھے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مقامی شخص پر دباؤ کے تحت معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو ’’شدت پسند‘‘ اور ’’ہتھیار بردار‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں پوری ایک نسل کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔





