گاندربل،: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز کہا کہ منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جنگ اب جموں و کشمیر میں ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور انتظامیہ اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی جب تک منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
گاندربل میں انسدادِ منشیات مہم کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 55 روز قبل شروع کی گئی ’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘‘ مہم کا مقصد نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنا اور منشیات کی تجارت کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں، جس کے ذریعے ملک دشمن عناصر ہتھیار حاصل کرتے ہیں اور جموں و کشمیر میں تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔
نارکو دہشت گردوں کو ’’عوام اور نوجوانوں کا دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ سرحد پار اور جموں و کشمیر کے اندر سرگرم کئی عناصر منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں ملوث ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ نارکو دہشت گردی میں ملوث افراد پہلے ہی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور آئندہ ان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ نے اس لعنت سے نمٹنے کے لیے تین جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں منشیات کی سپلائی چین کو توڑنا، عوامی بیداری پیدا کرنا اور نشے کے متاثرین کی بحالی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنے، اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی جائیدادوں کو ضبط کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی آمدنی سے تعمیر کی گئی عمارتوں، بشمول سرکاری اراضی پر قائم ڈھانچوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔
آگاہی مہمات کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے گاندربل ضلع انتظامیہ اور پولیس کی تعریف کی، جنہوں نے دیہات اور پنچایتوں میں وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ پروگرام منعقد کرکے لوگوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
بحالی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نشے کے متاثرین کو علاج، مشاورت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
مہم کی پیش رفت کی تفصیلات بتاتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 55 دنوں کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف 1,036 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ 1,128 اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 63 اسمگلروں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کیے گئے، 100 سے زائد جائیدادیں ضبط کی گئیں اور 700 سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 130 بڑے منشیات فروشوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں، جبکہ دیگر کئی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
انسدادِ منشیات مہم میں عوامی تعاون طلب کرتے ہوئے سنہا نے لوگوں سے سوال کیا کہ آیا وہ اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں، جس پر حاضرین نے سخت کارروائی کے حق میں بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کا جموں و کشمیر کی سرزمین سے مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔‘‘
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ انتظامیہ معاشرے کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی۔




