جمعرات, مارچ ۵, ۲۰۲۶
20.3 C
Srinagar

نیپال میں جین زی تحریک کے چھ ماہ بعد آج پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

کھٹمنڈو، :  ہمسایہ ملک نیپال میں جین زیڈ تحریک کے چھ ماہ بعد جمعرات کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہورہی ہے۔
نیپال میں وفاقی پارلیمنٹ کے 275 رکنی ایوان زیریں کے لیے ووٹنگ صبح 7 بجے ( ہندستانی وقت کے مطابق 6:45 بجے) شروع ہوئی اور ووٹرز شام 5 بجے (ہندستانی وقت کے مطابق 4:45 ) تک اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔
نیپالی کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کے کوآرڈینیٹر پشپا کمل دہل ‘پرچنڈ’ نے بھرت پور شہر میں چتوان کے شانتی پور کے وارڈ نمبر 14 میں واقع نیپال پولیس اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا اور امید ظاہر کی کہ انتخابات کے بعد ملک خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ووٹرز ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں گے جو ملک اور اس کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دیں گے۔

دریں اثنا، راسٹریہ سواتنتر پارٹی (آر ایس پی) کے صدر روی لامچھانے نے چچیپاٹی میں کھٹمانڈو اپاتیکا کھانیپانی لمیٹڈ (کے یو کے ایل) پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات سے ملک میں سیاسی حل نکالنے میں مدد ملے گی۔ وہ چتوان حلقہ 2 سے ایوان نمائندگان کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ آر ایس پی کے سینئر لیڈر بالیندر شاہ سمیت مختلف پارٹیوں کے کئی دیگر لیڈروں نے بھی اپنا ووٹ ڈالا۔
ہمالین ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح 7 بجے شروع ہوا۔ غور طلب ہے کہ جین زی تحریک کی وجہ سے نیپالی کانگریس کی حمایت یافتہ کھڈگ پرساد شرما اولی کی حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشنز پر مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ لائنیں بنائی گئی ہیں۔ ووٹنگ کے دوران بزرگ شہریوں، معذوروں اور پرانی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انتخابی سامان کو دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img