سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایرانی جنگی جہاز پر مبینہ حملے اور اس کے ڈوبنے کی خبر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جہاز اور اس کا عملہ بھارت میں منعقدہ کثیر ملکی بحری مشق میں شرکت کے لیے آئے تھے اور اس اعتبار سے وہ بھارت کے مہمان تھے۔
رپورٹس کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی کے دوران بدھ کے روز سری لنکا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مذکورہ جہاز بھارت کی میزبانی میں منعقدہ ’میلان‘ بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔
جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر میں بھی تشویش کی فضا پیدا ہوئی ہے کیونکہ خطے کے کئی باشندے، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، اس وقت ایران میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا:’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایرانی جنگی جہاز پر حملہ کیا گیا۔ وہ ہمارے مہمان تھے اور بحری مشق میں شرکت کے لیے یہاں آئے تھے۔ واپسی کے دوران ان پر حملہ ہوا۔ کسی نہ کسی طرح ہمارا ملک بھی اس صورتحال سے جڑ گیا ہے۔ آگے کیا ہوگا، یہ میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت اس معاملے میں مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے باشندوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایسے شہریوں کو بحفاظت واپس لانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور کوئی بھی شرپسند عنصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے بدھ کے روز سرینگر میں مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی جس میں مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس دوران انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہار حکومت اور اس کے اتحادیوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے نتیش کمار کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے ان کے ماضی میں انڈیا اتحاد کے ساتھ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
نیپال میں عام انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں انتخابات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیپال کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔





