جمعہ, فروری ۲۷, ۲۰۲۶
14.5 C
Srinagar

پاکستان اور افغانستان آمنے سامنے، سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد خطہ جنگ کے دہانے پر

ایشین میل مانیٹرنگ ڈیسک

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی گزشتہ شب افغان طالبان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر کیے گئے بھرپور حملوں کے بعد شدت اختیار کر گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں اور خطہ ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان فورسز نے 26 فروری کی رات دراند لائن کے مختلف سیکٹروں میں پاکستانی فوجی تنصیبات اور سرحدی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں اطراف سے چار گھنٹوں سے زائد وقت تک بھاری فائرنگ اور عسکری کارروائیاں جاری رہیں۔

افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے چند روز قبل افغان حدود میں کیے گئے فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں، جبکہ افغان حکام کے مطابق جوابی حملوں میں 55 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد سرحدی پوسٹوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

دوسری جانب پاکستان نے افغان کارروائیوں کو ’’بلا اشتعال حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری جوابی آپریشن ’غضب اللحق ‘ شروع کیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور بعد ازاں پاکستان نے کابل، قندھار اور پکتیکا سمیت مختلف علاقوں میں فضائی حملے کر کے مبینہ عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی ردعمل میں اب تک افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک کیے گئے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو
سکی۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر خودمختاری کی خلاف ورزی اور کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ طالبان قیادت نے مزید کارروائی کی دھمکی دی ہے جس کے باعث سرحدی علاقوں میں جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ادھر پاکستان نے اسے کھلی جنگ سے تعبیر کیا ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے بڑھتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان سے فوری تحمل اختیار کرنے اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ کشیدگی خطے میں وسیع فوجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جبکہ دونوں جانب شہری آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img