عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز‘ پر ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں، ایرانی بحریہ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی
فوجی جہاز سے ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی میں برطانیہ شامل نہیں ہوگا

بی بی سی کو علم ہوا ہے برطانیہ ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی کے نفاذ میں حصہ نہیں لے گا۔
برطانوی بحری جہاز اور فوجی اہلکار ایرانی بندرگاہوں کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے، تاہم برطانیہ کے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں خطے میں اپنا کام جاری رکھیں گی۔
برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جہازرانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی معیشت اور ملک میں زندگی گزارنے کے اخراجات کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘
ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنا ہے

دفاعی تجزیہ کار جسٹن کرمپ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا منصوبہ ایران کی جنگ میں مزید شدت کا باعث بنے گا اور یہ ’امن معاہدہ حاصل نہ ہونے پر ٹرمپ کے غصے‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کرمپ نے کہا کہ ان تجاویز کے نتیجے میں ایران اپنے خریداروں، جیسے چین، کو تیل فروخت نہیں کر سکے گا، جس سے ایران پر دباؤ بڑھے گا۔
کرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک دوسرے پر برتری ہے، اور دونوں فریق ’یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں وہی جیتے ہیں تاکہ دوسرے کو نیچے لایا جا سکے‘۔
ان کے مطابق اس سے کشیدگی اور خلل میں اضافہ ہوتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ ہونے والی بات چیت میں ایک ’مثبت پہلو‘ موجود تھا، چاہے وہ کسی حل تک نہ پہنچی ہو۔
انھوں نے کہا، ’کافی گفتگو ہوئی، جو اچھی بات ہے۔ اگر بات کرنے کو کچھ نہ ہوتا تو یہ بہت جلد ختم ہو جاتا۔‘
آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران ہر جانب آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بازگشت رہی۔40 روزہ لڑائی کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں یا اس کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو روکنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔
جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا۔
لیکن جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آئی، ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔
اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلاتعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔تو ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لے مزید کیا کر سکتا ہے؟
معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم "اسلام آباد ایم او یو” کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔




