جمعرات, فروری ۲۶, ۲۰۲۶
16.7 C
Srinagar

‘طلبا قوم کی تعمیر کے لئے اپنا بھر پور رول ادا کریں: منوج سنہا کا کشمیر یونیورسٹی کے 21 ویں کنووکیشن سے خطاب

سری نگر،:جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے عزائم کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑیں اور قوم کی تعمیر کے لئے اپنا بھر پور رول ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم سے کردار، قابلیت اور عزم سے لیس ذمہ دار شہری پیدا ہونے چاہئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار کشمیر یونیورسٹی کے 21 ویں کنووکیشن سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ یہ موقع محض ڈگریوں تفویض کرنے کا علامت نہیں ہے بلکہ نسلوں کی تبدیلی اور جدید تعلیم میں معاشرے کے عقیدے کو مضبوط کرنے کی بھی علامت ہے’۔
انہوں نے تمغہ جیتنے والوں، اسکالرز، فیکلٹی ممبران اور والدین کو اکیڈمک ایکسیلنس میں ان کے اجتماعی تعاون کے لیے مبارکباد دی۔
طالبات کی نمایاں کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 249 میں سے 186 گولڈ میڈل اور 164 میں سے 108 پی ایچ ڈی ڈگریاں طالبات نے حاصل کی ہیں جو سماجی تبدیلی کا عکاس ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ ‘جب مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تو خواتین نہ صرف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں بلکہ تمام شعبوں میں نئے معیارات قائم کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھ جاتی ہیں’۔
انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے تناظر میں کہا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقیات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی اعلیٰ تعلیم اور نقل و حمل کو نئی شکل دے رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موافقت، بین الضابطہ تعلیم اور مہارت کی مسلسل ترقی ایک غیر متوقع دنیا میں ‘رلیونٹ’ رہنے کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو ایک وسیلہ کے طور پر استعمال کرنا چاہئے اس کو انسانی ذہانت کے متبادل کے بطور استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے۔۔
ایل جی نے طلبا پر زور دیا کہ وہ ناکامی کو سیکھنے کا ایک اہم جز سمجھیں۔
انہوں نے کہا: ‘ناکامیاں اکثر نئے راستوں اور نئے مواقع کے لئے دروازے کھولتی ہیں’۔
ان کا کہنا ہے کہ تعلیم ڈگری کے ساتھ ختم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہنا چاہئے۔
اخلاقی قدروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے منوج سنہا نے زور دے کر کہا: ‘مصنوعی ذہانت تحقیق اور اختراع کو تیز کر سکتی ہے، تاہم اس کی رہنمائی اخلاقی ذمہ داری اور انسانی ذہانت سے ہونی چاہیے’۔
فارغ التحصیل طلبا کو معاشرے میں معنی خیز کر دار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم تبدیلی کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے اور اس کو قوم کی تعمیر کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نہ صرف ذاتی کامیابی کے لیے بلکہ اجتماعی ترقی کے لیے بھی سبقت لے رہے ہیں۔
انہوں نے طلباء سے کہا کہ ملک نے ان کی تعلیم میں بڑی امید اور توقعات کے ساتھ سرمایہ کاری کی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘جب آپ اپنے علم اور ہنر کو قوم کے لیے وقف کرتے ہیں، تو آپ اپنے آپ کو اور ملک کو مضبوط بناتے ہیں’۔

Popular Categories

spot_imgspot_img