ایشین میل مانیٹرنگ ڈیسک
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ اور ایران بالمشافہ مذاکرات کے ایک اور دور پر غور کر رہے ہیں۔مالیاتی اور کاروباری امور سے متعلق خبریں دینے والے امریکی ادارے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور دو ہفتے کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہو گا۔
بلومبرگ کے مطابق معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد سمیت دیگر مقامات کے انتخاب پر غور کیا جا رہا ہے۔جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نیوز نے بھی دو امریکی حکام اور پیشرفت سے واقف ایک شخص کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالمشافہ مذاکرات کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
اے پی نیوز کے مطابق ان تینوں ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ایک اور دور سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ ثالثی میں شامل ایک ملک کے سفارتکار کا تو یہ کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن نئے مذاکرات پر رضامند بھی ہو چکے ہیں۔اے پی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کے مقام کے طور پر اسلام آباد کے علاوہ جنیوا کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ابھی مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
بلومبرگ اور اے پی نیوز کا کہنا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے خطے میں موجود ایک ذریعے اور ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث امریکہ اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ اختلافات ختم کر کے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگلی نشست تک (دونوں ملک) کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔‘ایران کی تہران یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو محمد اسلامی نے بھی بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کو بتایا کہ امریکہ ایران مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
محمد اسلامی کے مطابق ایرانی حکومت پاکستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور فرانس سے بھی رابطے میں ہے۔اے پی نیوز نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس کو پیغام بھیجا تاہم اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔اس سے پہلے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ ’دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے‘ اور ’وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
امریکہ ایران کے درمیان مزید امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث جنگ کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 2.2 فیصد کمی کے ساتھ 97.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایران کی ناکہ بندی کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔





