نیویارک،: وینزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے عدالت میں پیشی کے موقع پر اپنے اوپر عائد تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بے گناہ اور شریف انسان ہوں امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں نارکو ٹیررازم (منشیات اور دہشت گردی ) سے متعلق الزامات پر جرم قبول کرنے سے انکار کردیا یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ وینزوئیلا کے صدر کسی امریکی عدالت میں پیش ہوئے ہوں۔ مادورو کو جیل یونیفارم میں عدالت لایا گیا، جہاں ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ سیلیا فلورس بھی موجود تھیں۔
دونوں شخصیات نے عدالتی کارروائی کو انگریزی سے ہسپانوی زبان میں ترجمہ سننے کے لیے ہیڈ فونز استعمال کیے۔ عدالت کی جانب سے استفسار پر وینزوئیلا کے صدر مادورو نے کہا کہ میں بے گناہ، شریف انسان اور اب بھی صدر ہوں۔
عدالت نے مادورو کو مقدمے کی اگلی سماعت 17 مارچ تک تحویل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔ جب ان سے فردِ جرم کے مطالعے سے متعلق سوال کیا گیا تو مادورو نے کہا کہ انہوں نے دستاویز دیکھی ضرور ہے مگر مکمل طور پر نہیں پڑھی۔ انہوں نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ وہ کسی بھی الزام کے مرتکب نہیں۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو اور وینزوئیلا کے دیگر اعلیٰ حکام پر سال 2020 میں نارکو ٹیررازم کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق نارکو ٹیررازم سے مراد دہشت گرد تنظیموں اور باغی گروہوں کا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف نے مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف نئی فردِ جرم جاری کی، جس میں ان پر منشیات اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بطور ملزم نکولس مادورو کو امریکی عدالتی نظام میں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو کسی بھی عام ملزم کو دیے جاتے ہیں، جن میں نیویارک کے عام شہریوں پر مشتمل جیوری کے سامنے مقدمے کی سماعت کا حق بھی شامل ہے۔
مادورو کے وکلا کی جانب سے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے اور یہ مؤقف اختیار کیے جانے کا امکان ہے کہ وہ بطور سربراہِ مملکت قانونی استثنیٰ رکھتے ہیں اور ان پر امریکا میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
علاوہ ازیں نیویارک کی عدالت نے 17 مارچ کو مادورو کو دوبارہ پیش کرنے اور سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکام نے مادورو پر نارکو ٹیررازم، بڑے پیمانے پر کوکین اسمگلنگ اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں جن کےتحت آج عدالت میں کارروائی شروع ہوئی تھی۔
یو این آئی





