جمعرات, اپریل ۳, ۲۰۲۵
17.6 C
Srinagar

تربیتی مہینہ اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔۔۔۔

رمضان المبارک اپنے آخری پڑھاو پر ہے، اور آج جمعتہ الوداع کے موقع پر ہم گزشتہ شب شبِ قدر کی روحانیت میں سرشار ہو کر عبادات میں مصروف رہے۔ رمضان کا یہ مہینہ ہمیں محض روزے رکھنے اور عبادات بڑھانے کے لیے نہیں دیا گیا، بلکہ یہ ہماری تربیت اور روحانی تزکیے کا مہینہ ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم نے اس مبارک مہینے سے کتنی تربیت حاصل کی اور اس پر کس حد تک عمل پیرا ہونے میں کامیاب رہے؟ کیا یہ مہینہ ہمارے کردار اور زندگی کے معمولات میں کوئی حقیقی تبدیلی لایا؟رمضان ہمیں صبر، تقویٰ، بردباری، قربانی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ بھوک اور پیاس کے ذریعے ہمیں ان ضرورت مندوں کی یاد دلائی جاتی ہے جو سال بھر تنگ دستی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رمضان کے بعد بھی ہم اسی احساس کے ساتھ جیتے ہیں؟ کیا ہم ان مستحقین کی مدد سال بھر اسی جذبے سے جاری رکھتے ہیں جس طرح رمضان میں کرتے ہیں؟
عطیات دینا صرف رمضان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مستقل رویہ بنانے کی ضرورت ہے۔ صدقات و خیرات نہ صرف ہماری دولت میں برکت کا سبب بنتے ہیں بلکہ یہ معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وسائل کا ایک حصہ باقاعدگی سے مستحقین میں تقسیم کریں تاکہ معاشرے میں ایک متوازن اقتصادی نظام پروان چڑھ سکے۔اسی طرح، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عبادت کے دروازے رمضان کے بعد بھی کھلے رہنے چاہئیں۔ تراویح، تلاوت، تہجد اور دیگر نیک اعمال صرف اس مہینے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ہمیں اپنی زندگی میں ان کا تسلسل برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر ہم نے رمضان کے دوران جھوٹ، غیبت اور فریب سے اجتناب کیا تو کیا ہم یہ عادتیں بعد میں بھی ترک کر سکیں گے؟ کیا ہم نے روزے کے دوران صبر، ضبط اور حسنِ سلوک کی جو مشق کی، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
رمضان ہمیں نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی اصلاح کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں صرف عبادات کی کثرت کی مگر اپنے کردار اور اعمال میں بہتری نہیں لائی تو ہمیں اپنی کوششوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے سماجی، اخلاقی اور معاشرتی فرائض کی انجام دہی کے لیے اس مہینے سے بھرپور سبق لینا ہوگا۔یہ ضروری ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنی عبادات اور نیک اعمال کو جاری رکھیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کا سہارا بنیں، اور اس تربیتی مہینے کو اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ اگر ہم نے رمضان سے سیکھے ہوئے سبق کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا تو یقیناً یہ مہینہ ہمارے لیے کامیاب ثابت ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہینے کی برکتوں کو اپنی عملی زندگی میں شامل کریں تاکہ ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بہتر اور مفید انسان ثابت ہو سکیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img