4جون کا انتظار ۔۔۔۔۔

4جون کا انتظار ۔۔۔۔۔

ملک میں لوک سبھا انتخابات کا آخری مرحلہ دوروز بعد یعنی یکم جون کو ہو رہا ہے ۔7ویںمرحلے کے دوران باقی بچی 57نشستوں پر اس دن ووٹ ڈالے جائیں گے۔انتخابات ختم ہونے کے بعد ہی مختلف ٹی وی چینلیں اور ادارے ایگزٹ پول ملک کے لوگوں کو باور کریں گے کہ ان انتخابات کے دوران کس کی سرکار وجود میں آئے گی؟ اور کون بنے گا ملک کا نیا وزیر اعظم؟ ۔یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ان اداروں کا ایگزٹ پول صد فیصد صحیح ہوں گے۔ تاہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ہے کہ یہ غلط ہوگا،کیونکہ جو لوگ گراﺅنڈ زیرو پر کام کرتے ہیں اور جن صحافیوں اورتجزیہ نگاروں نے گلی گلی گھوم کر لوگوں کی رائے جمع کی ہوتی ہے ،اُس رائے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ملک میں سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا پتہ بہرحال 4جون شام کو ہوگا۔بہت سارے آزاد خیال صحافیوں کا ماننا ہے کہ ملک میں کسی ایک پارٹی کو پوری طرح اکثریت نہیں آئے گی، جو ملک کے لئے ہرگز اچھی بات نہیں ہے کیونکہ ماضی کا تجروبہ ہمارے سامنے عیاں ہے کہ ملک میں ایک پارٹی کو پوری طرح منڈیٹ نہ ملنے کی بنا پر سرکاریں ٹوٹ گئیں اور دوبارہ انتخابات کرنے پڑے جس سے ملک کو مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا اور عام لوگوں کے مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔
اٹل بہاری واجپائی کی سرکار صرف 13دن تک چلی جب وہ فلور ٹیسٹ میںاکثریت دکھانے میں ناکام ہوگئے۔ملک میں ایک مضبوط سرکار وجود میں آنے سے نہ صرف ملک میں بہتر ڈھنگ سے تعمیر و ترقی ہوجاتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی دنیا کے مختلف ممالک سے بہتر تعلقات قائم ہوتے ہیں جو ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے انتہائی لازمی ہوتا ہے۔ایک طرف جہاں بی جے پی ان نعروں سے پیچھے نہیں ہٹتی کہ اب کی بار چار سو پار وہیں انڈیا الائنس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مل کر سرکار بناسکتی ہے اور لوگوں نے انہیں تسلیم کیا ہے۔چار جون کو جہاں ملک کے انتخابی نتائج پر ملک کے عوام کی نظریں ٹکی رہیں گی، وہیں عالمی ممالک بھی بھارت کے ان انتخابی نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ملک کے پالیسی سازوںاور دانشورں کو بھی یہ فکر لاحق ہوگی کہ ملک کس اور جارہا ہے ۔بہر حال جمہوری ملک میں عوامی منڈیٹ کا احترام لازمی ہو تا ہے اور اُمید کی جاسکتی ہے کہ ملک کے عوام نے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا ہو گا، اس عوامی فیصلے پر تمام سیاسی لوگ بغیر کسی لگی لپٹی کے راضی ہوں گے یہی جمہوریت کی کامیابی تصور کی جائےگی اور جو بھی سرکار بر سر اقتدار آئے گی۔ ہرایک سیاسی پارٹی اُس نئی سرکار کے صحیح فیصلوں کی حمایت کریگی تاکہ متحد ہو کر تمام اندرونی اور بیرونی مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.