عالمی میڈیا رپورٹس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے اور صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
کراکس میں ایک فوجی اڈے کے ہینگر سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا جبکہ دارالحکومت میں واقع ایک اور فوجی تنصیب کی بجلی منقطع ہو گئی۔شہر کے مختلف حصوں میں لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ کراکس کے مختلف علاقوں میں دور دور تک لوگوں کو دیکھا گیا۔
21 سالہ خاتون کارمن ہڈالگو نے کانپتی ہوئی آواز میں اے پی کو بتایا: ’پورا علاقہ لرز اٹھا۔ یہ بہت خوفناک تھا۔ ہم نے دھماکوں اور طیاروں کی آوازیں سنیں۔‘مذکورہ خاتون دو رشتہ داروں کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا: ’ایسا محسوس ہوا جیسے ہوا ہم سے آ کر ٹکرا رہی ہو۔‘
وینزویلا کی حکومت نے ایک بیان میں اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکل آنے کی اپیل کی۔بیان میں کہا گیا: ’لوگو، سڑکوں پر نکل آؤ۔ حکومت ملک کی تمام سماجی اور سیاسی قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ متحرک ہونے کے منصوبے فعال کریں اور اس سامراجی حملے کی مذمت کریں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر نکولس مادورو نے ’تمام قومی دفاعی منصوبوں پر عمل درآمد‘ کا حکم دے دیا ہے اور ’بیرونی مداخلت کی حالت‘ نافذ کر دی گئی ہے۔یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں امریکی فوج مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جمعے کو وینزویلا نے کہا تھا کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
صدر مادورو نے جمعرات کو نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی مسلط کرنا چاہتا ہے اور اگست میں بحیرہ کیریبین میں بڑے فوجی دستے کی تعیناتی سے شروع ہونے والی مہینوں پر محیط دباؤ مہم کے ذریعے اس کے تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ میں نکولس مادورو پر منشیات سے جڑی دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ گذشتہ ہفتے سی آئی اے ایک ڈرون حملے کے پیچھے تھی جو ایک ایسی لنگرگاہ پر کیا گیا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے وینزویلا کے منشیات کارٹلز استعمال کر رہے تھے۔ یہ ستمبر میں کشتیوں پر حملے شروع ہونے کے بعد وینزویلا کی سرزمین پر کیا جانے والا پہلا معلوم براہ راست آپریشن تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مہینوں سے یہ دھمکی دے رہے تھے کہ وہ جلد ہی وینزویلا کی سرزمین پر اہداف پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔امریکہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل بردار جہاز بھی ضبط کیے اور ٹرمپ نے دیگر جہازوں کی ناکہ بندی کا حکم دیا، جسے جنوبی امریکی ملک کی معیشت پر مزید سخت دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔
امریکی فوج ستمبر کے آغاز سے بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر حملے کر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے تک معلوم حملوں کی تعداد 35 ہو چکی ہے جب کہ ان میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 115 ہے۔
یہ کارروائیاں جنوبی امریکہ کے ساحلی پانیوں میں امریکی فورسز کی بڑی تعداد میں تعیناتی کے بعد کی گئیں، جن میں نومبر میں ملک کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز کی آمد بھی شامل تھی۔ اس تعیناتی سے پہلے ہی خطے میں کئی نسلوں کے دوران سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم تھی، جس میں مزید ہزاروں فوجی شامل ہو گئے۔
ٹرمپ نے کشتیوں پر حملوں کو امریکہ میں منشیات کی آمد روکنے کے لیے ضروری شدت اختیار کرنے کے طور پر درست قرار دیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا منشیات کے کارٹلز کے ساتھ ’مسلح تنازعے‘ میں مصروف ہے۔
دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ہفتے کو کراکس میں ہونے والے دھماکوں کی خبر دی اور وینزویلا کے دارالحکومت کی تصاویر نشر کیں۔ ایران کئی برسوں سے وینزویلا کے قریب رہا ہے، جس کی ایک وجہ امریکہ کے خلاف دونوں کی مشترکہ دشمنی بھی ہے۔
تجزیہ: ’یہ واقعہ جدید دور میں بے مثال ہے‘,جو انووڈ، نمائندہ برائے بین الاقوامی اُمور
اگر، جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے، امریکہ نے ڈیلٹا فورس کو وینزویلا کے دارالحکومت کے قلب میں بھیج کر صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا ہے، تو یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔
اس کے قریب ترین موازنہ سنہ 1989 میں پاناما کے فوجی رہنما مانوئل نوریگا کی گرفتاری ہے، جو خصوصی امریکی فوجی دستوں کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
ان دونوں رہنماؤں نے حالیہ متنازعہ انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا، دونوں پر امریکہ نے منشیات سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، اور دونوں کے خلاف کارروائی سے قبل امریکہ نے بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کی تھی۔
تاہم نوریگا کی گرفتاری ایک مختصر اور فیصلہ کن جنگ کے بعد ہوئی تھی، جس میں پاناما کی افواج جلد ہی شکست کھا گئیں۔نوریگا نے ویٹیکن کے سفارتخانے میں پناہ لی، جہاں وہ 11 دن تک مقیم رہے۔
بالآخر انھیں ’نفسیاتی جنگ‘ کے ذریعے باہر آنے پر مجبور کیا گیا، خاص طور پر بلند آواز میں راک موسیقی بجا کر، جس میں دی کلاش، وین ہیلن اور یو2 کے گانے شامل تھے۔بعد ازاں انھیں امریکہ لے جایا گیا، جہاں وہ منشیات کے جرائم میں مجرم قرار پائے۔
نکولس مادورو کی گرفتاری کی کارروائی کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن بظاہر یہ ایک اور بھی زیادہ پرخطر اور وسیع آپریشن تھا، جس میں صدر اور ان کی اہلیہ کو روایتی زمینی افواج کو داخل کیے بغیر ہی ڈیلٹا فورس نے نکال لیا۔ان کا مستقبل غیر واضح ہے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ امریکی جیل میں ہی موجود ہوں گے۔





