شاہ ِ ہمدان کا درس

شاہ ِ ہمدان کا درس

وادی بھر میں حضرت شاہ ِ ہمدان یعنی میر سید علی ہمدانی ؒ کا عرس مبارک نہایت ہی عقیدت واحترام کےساتھ منایا گیا ۔

اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب خانقاہ معلی میں منعقد ہوئی، جہاں شدید گرمی کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے حاضری دی اور نماز ظہر میںشرکت کی ۔

حضرت شاہ ہمدان ؒ کے بارے میں اہلیان جموں وکشمیر کو یہ عقیدہ ہے کہ انہوں نے ہی یہاں تشریف آور ہو کر لاکھوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کر دیا اور اسطرح انہیں بہترین انسان بننے کا موقعہ فراہم کیا ۔

دنیا بھر کی سیر اور دعوت دین دینے کے دوران ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی ہے کہ انہوں نے کسی انسان کو بزور بازوں اسلام قبول کرنے کیلئے مجبور کیا ہو جبکہ اُن کےساتھ اُن کے دوستوں کا ایک بہت بڑا لشکر تھا ۔

اس سے قبل اگر چہ اس سرزمین پر بانی اسلام حضرت عبد الرحمان شاہ بلبلؒ اپنے قدم رکھے تھے اور انہوں نے اُس وقت کے بودھ بادشاہ اور اُن کی اہلیہ کو اپنی جانب راغب کیا تھا اور اصل زندگی کے مقصد سے روشناس کیا تھا لیکن یہاں سے بھی کوئی ایسا واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا ہے کہ انہوں نے کسی پرجبر وظلم کر کے انہیں اپنا نصب العامین اپنانے کیلئے مجبو ر کیا ہو ۔

یہ ان بزرگوں کی تعلیمات اور فلسفہ انسانیت وہمدردی کا درس تھا ،اسکے برعکس موجودہ دور کے نامنہاد مسلمان نہ جانے کیوں ہاتھوں میں ہتھیار لیکر دنیا بھر میں خون خرابہ ،دہشت اور خوف پھیلا رہے ہیں ۔

اس طرح اسلام سے متعلق بدظنی پھیلا رہے ہیں ۔شاہ ہمدان ؒ کے دورمیں وادی کے مندر اور مسجد یں اپنے اپنے انداز میں ہر صبح ذکر وازکار اور بجھن سے گونج رہے تھے لیکن آج اُن کا دیا ہوا نسخَہ کِیمِیا یعنی اوراد فتحہ بھی پڑھنے کی کوئی زحمت گوارہ نہیں کرتا ہے، اسطرح ان بزرگوں کے نقش قدم سے لوگوں کو دور کیا جا رہا ہے جن کے ہم یعنی اہل وادی مرحون منت ہیں جنہوں نے یہاں کے لوگوں کو سیدھے راستے پر لاکر انسانیت ہمدردی ،اخوت ،مساوات اور بھائی چارہ سکھا یا ہے ۔

لہٰذا ہمیں بحیثیت قوم وملت ان حضرات کا شکر گذار رہنا چاہیے جو واقعی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ دوست تھے جنہوں نے اپنی زندگی راہ خدامیں صرف کی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.