انتخابات اور پی اے جی ڈی

انتخابات اور پی اے جی ڈی

جموںوکشمیر اسمبلی انتخابات کے حوالے سے دھیرے دھیرے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ رواں برس کے آخر میں یہاں عا م انتخابات ممکنہ طور پر منعقد ہوسکتے ہیں اور اسطرح یہاں برسوں بعد لوگوں کے اپنی چنی ہوئی سرکاروجود میں آئے گی، جو کہ ایک اچھا قدم عوامی حلقوں میں تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ ایل جی انتظامیہ میں لوگوں کی رسائی اعلیٰ حکام تک نہیں ہوپارہی ہے ۔

اسطرح لوگوں کو مسائل ومشکلات کاسامنا ہو رہا تھا ۔الیکشن کمیشن نے گذشتہ روز واضح کیا ہے کہ اکتوبر کے آخر تک انتخابات کے حوالے سے تمام تیار یاں مکمل کی جائیں گی جن میں ووٹر لسٹوں کو شکل دینا ،حدبندی کے حوالے سے تفصیلات مشتہر کرنا ،نئے مراکز کی نشاندہی وغیرہ قابل ذکر ہے ۔

یہاں یہ بات بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں نے عوامی حلقوں میں جانا شروع کیا ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں وہ لوگوں کا ووٹ اور سپورٹ حاصل کر سکں ۔

بہرحال جمہوری نظام میں سب کچھ جائز ہے ،کون کس طرح لوگوں اور ووٹران کو اپنی اور راغب کرنے میں کامیاب ہو جائےگا ،یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیںہے کیونکہ آج تک یہاں کے سیاستدانوں نے کبھی اٹا نومی کبھی اندرونی خود مختاری اور کبھی سیلف رول کے نام پر ووٹ حاصل کئے اور اکثر انتخابات میں وہ یہی کہتے نظر آرہے تھے کہ ہمیں پانی ،بجلی اور سڑک کیلئے انتخابات میں شرکت کرنی پڑتی ہے، اسے مسئلہ کشمیر کے سیاسی پہلو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ عام لوگو ں کے نس نس سے واقف تھے۔

اب چونکہ ملک کے اس خطے کو موجودہ مرکزی سرکار نے پوری طرح سے ملک کےساتھ ضم کیا ہے ۔

یہاں تک ریاست کا درجہ بھی ختم کیا ہے اور ریات کی تقسیم بھی کی ہے جس پر بہت ساری سیاسی پارٹیاں مرکز سے ناراض ہیں اور اسی بناءپر پی اے جی ڈی بنی ہے جس میں جموں وکشمیر کی دواہم سیاسی پارٹیاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی شامل ہیں ،انہوں نے کئی مرتبہ بیانات داغ دئیے ہیں کہ وہ تب تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی جب تک ریاست کا درجہ بحال ہو گا اور خصوصی درجے واپس نہیں ملے گا ،ان حالات میں وہ کیا فیصلہ لیں گے ،یہ ایک اہم سوال ہے اور یہ سیاسی جماعتیں دو دھاری تلوار پر کھڑی ہیں ۔انتخابات ہونے سے اُ ن کے مشکلات بڑھ سکتے ہیں اور وہ عوام کے سامنے کیا کچھ لے کر جائیں گے یہ دیکھنا باقی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.