پیر, جولائی 27, 2026
30.6 C
Srinagar

جہلم کی سرگوشی۔۔۔

تحریر :شوکت ساحل

23، 24 اور 25 جولائی کو خاموش دریائے جہلم نے ایک بار پھر دھیمی سی سرگوشی کی، گویا کہہ رہا ہو:’میں پھر ابل کر آ رہا ہوں۔ کیا تم نے میری گزشتہ للکاروں سے کچھ سیکھا؟‘یہ سرگوشی پہاڑوں سے ٹکرائی، وادی میں گونجی، مگر ایوانِ اقتدار تک شاید نہ پہنچ سکی۔ حکمران اور سیاست دان اپنی اپنی سیاسی بساط پر مہرے چلانے، بیانات کے پھول چننے اور انہیں اقتدار کے گلدان میں سجانے میں مصروف رہے۔ کوئی سری نگر میں پریس کانفرنسوں میں مصروف تھا، کوئی متاثرین کے درمیان تصویریں بنوا رہا تھا، تو کوئی سیاسی محاذ پر اپنی موجودگی درج کرانے میں لگا تھا۔ مگر ان تین دنوں میں وادی کا عام آدمی اپنے منتخب نمائندوں کو تلاش کرتا رہا۔ یہ کسی سیاسی جماعت ،حکومت یا انتظامیہ پر تبصرہ نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خوف زدہ لوگوں کے درمیان عوامی نمائندوں کی موجودگی سے زیادہ ان کی غیر موجودگی محسوس ہو رہی تھی۔

دوسری طرف عام آدمی ایک بار پھر اسی بے چینی، اسی خوف اور اسی اضطراب کا شکار تھا جو 2014ئ کے تباہ کن سیلاب کی یادوں سے آج بھی پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر کچھ زخم ہر بارش کے ساتھ پھر ہرے ہو جاتے ہیں۔دریا کبھی اچانک نہیں بولتے۔ وہ برسوں خاموش رہ کر انسان کو سوچنے کا موقع دیتے ہیں۔ جب وہ بولتے ہیں تو دراصل انسان کی خاموشی بے نقاب ہوتی ہے۔23، 24 اور25 جولائی صرف تین تاریخیں نہیں تھیں، بلکہ تین ایسے دن تھے اور ایسی راتیں تھیں، جنہوں نے کشمیر کے لاکھوں لوگوں کی دھڑکنوں کو دریائے جہلم کی موجوں کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ آسمان مسلسل برس رہا تھا۔سرمئی اور کالے بادل پہاڑوں پر جھکے ہوئے تھے۔ وادی کی فضا میں نمی بھی تھی اور بے چینی بھی۔ درخت خاموش تھے، پرندے کم دکھائی دے رہے تھے اور کشمیر کی رگوں میں صدیوں سے بہنے والا جہلم آہستہ آہستہ اپنے سینے میں پانی سمیٹ رہا تھا۔

اس بار اس نے شور نہیں مچایا۔اس نے صرف سرگوشی کی۔یہ آواز شاید ہر کسی نے نہ سنی ہو، مگر جس نے 2014 کا سیلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس کے لیے یہ سرگوشی کسی قیامت کی دستک سے کم نہ تھی۔ کچھ آوازیں کانوں سے نہیں، یادوں سے سنی جاتی ہیں۔ستمبر2014 میں بھی ابتدا کچھ ایسی ہی ہوئی تھی۔ بارشیں ہوئیں، دریا بلند ہوا، الرٹ جاری ہوئے، مگر بہت سے لوگوں نے انہیں معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔پھر ایک صبح سورج نکلا، مگر اس کی روشنی پانی کے وسیع سمندر پر پڑ رہی تھی۔ گھر، بازار، مسجدیں، مندریں، اسکول، اسپتال اور دفاتر سب پانی کے رحم و کرم پر تھے۔ پانی اتر گیا، بازار پھر آباد ہو گئے، سیاست اپنے معمول پر لوٹ آئی، وعدے دہرائے گئے، کمیٹیاں بنیں، رپورٹیں تیار ہوئیں، منصوبوں کا اعلان ہوا، لیکن ایک سوال وہیں کھڑا رہا: کیا ہم نے واقعی کچھ سیکھا؟

جولائی 2026ئ نے یہی سوال ایک بار پھر ہمارے سامنے رکھ دیا۔یہ پہلی بار نہیں تھا کہ جہلم نے ہمیں خبردار کیا ہو۔ 2025کے اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل میں بھی اس نے تین مرتبہ اسی طرح کی خاموش سرگوشی کی تھی۔ پانی خطرے کی حدوں تک ضرور پہنچا، مگر قدرت نے ایک بار پھر ہمیں سنبھلنے کا موقع دیا۔ افسوس کہ ہم نے اس مہلت کو سبق بنانے کے بجائے ایک عارضی خطرہ سمجھ کر بھلا دیا۔23 جولائی کی صبح سے25 جولائی کی شام تک شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں موبائل فون بار بار نہ کھولا گیا ہو۔ لوگ ہر گھنٹے جاری ہونے والی ’واٹر لیول ‘ یعنی سطح ِآب کی رپورٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ کسی کی نظریں سنگم پر تھیں، کوئی پانپور میں پیلی اور سرخ لکیر کا موازنہ کر رہا تھا، کوئی رام منشی باغ کی رپورٹ دیکھ رہا تھا، تو کوئی عشم اور وولر جھیل کے اعداد و شمار پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں تھے، بلکہ خوف اور امید کے درمیان کھینچی ہوئی ایک لکیر تھی۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر تجزیہ نگار ،ماہرین کی ایک نئی دنیا آباد ہو گئی۔ کسی نے پیلی لکیر کی اپنی تشریح پیش کی، کسی نے سرخ لکیر کو قیامت کی علامت بنا دیا، کوئی ویڈیو پہ ویڈیوز اپ لورڈ کرکے نئی آفت قرار دے رہا تھا، تو کوئی بغیر تصدیق کے یہ اعلان کر رہا تھا کہ جہلم خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ افواہیں حقیقت سے زیادہ تیزی سے سفر کر رہی تھیں اور ہر نئی پوسٹ لوگوں کے دلوں میں خوف کی ایک نئی لہر پیدا کر رہی تھی۔مگر ان تمام شور کے درمیان جہلم اب بھی خاموش تھا۔قدرت اپنا راستہ خود بناتی ہے، مگر انسان اپنی غفلت سے آفات کو سانحہ بنا دیتا ہے۔ دریا کا بہاؤ اچانک خطرناک نہیں ہوتا، بلکہ برسوں کی بے ہنگم تعمیرات، نالوں پر قبضے، ویٹ لینڈز کی تباہی، جنگلات کی کٹائی اور ناقص شہری منصوبہ بندی اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ جب پانی کے راستے بند کیے جائیں تو پھر پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے اور اس کی قیمت ہمیشہ انسان کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس بار متعلقہ محکموں نے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی، وقفے وقفے سے اعداد و شمار جاری کیے، حساس علاقوں میں الرٹ جاری کیے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ یہ 2014ئ کے مقابلے میں ایک مثبت تبدیلی تھی اور اس کا اعتراف ہونا چاہیے۔ لیکن ایک سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔کیا صرف واٹر لیول کی رپورٹیں جاری کرنا کافی ہے؟کیا عوام تک بروقت، سادہ اور قابلِ اعتماد معلومات پہنچانے کا ایسا نظام موجود ہے جو افواہوں کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر دے؟قدرتی آفات صرف انتظامی تیاری سے نہیں ٹلتیں، ان کے لیے سماجی اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب عوام درست معلومات سے محروم ہوتے ہیں تو افواہیں سچ سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہیں۔ ان تین دنوں میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں، ویڈیوز کی بھرماراور تجزیوں اور سنسنی خیز رپورٹنگ نے خوف کی فضا کو مزید گہرا کر دیا۔ ایسے میں ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ میڈیا اور ہر باشعور شہری کی بھی بنتی ہے کہ وہ تصدیق شدہ معلومات ہی آگے بڑھائے۔لیکن اس پورے منظر کا ایک اور پہلو بھی تھا، جو شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

قدرتی آفات کے دوران لوگ صرف سرکاری مشینری کی طرف نہیں دیکھتے، وہ اپنے منتخب نمائندوں کو بھی تلاش کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہے، ان کی بات سن رہا ہے، ان کے خوف کو سمجھ رہا ہے اور ان کے حوصلے کو سہارا دے رہا ہے۔بدقسمتی سے 23، 24 اور25 جولائی کے دوران وادی کے مختلف علاقوں میں یہ خلا نمایاں محسوس ہوا۔ سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، بیانات بھی آتے رہے، مگر جن گلیوں اور محلوں میں لوگوں کی نظریں اپنے نمائندوں کو تلاش کر رہی تھیں، وہاں اکثر خاموشی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان دنوں لوگوں نے انتظامیہ سے زیادہ اپنے دل کا بوجھ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹا۔قدرتی آفات سیاست کا میدان نہیں ہوتیں، انسانیت کا امتحان ہوتی ہیں۔ سیلاب یہ نہیں دیکھتا کہ متاثر ہونے والا کس جماعت کا کارکن ہے، کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے یا کس نظریے کا حامی ہے۔ پانی سب کے دروازوں پر ایک ہی طرح دستک دیتا ہے۔ اسی لیے آفات کے دوران سیاست سے زیادہ خدمت، اختلاف سے زیادہ اتحاد اور بیانات سے زیادہ موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بحران صرف حکومت کی ناکامی نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر ذمہ داری عوام پر ڈالی جا سکتی ہے۔ اگر ایک طرف حکومت کی ذمہ داری مضبوط فلڈ مینجمنٹ، جدید وارننگ سسٹم، آبی گزرگاہوں کی بحالی اور تجاوزات کے خاتمے کی ہے تو دوسری طرف شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ نالوں میں کچرا پھینکنا، ویٹ لینڈز پر خاموش رہنا، غیر قانونی تعمیرات کو معمول سمجھ لینا اور ماحولیات کو غیر اہم مسئلہ تصور کرنا بھی اسی المیے کا حصہ ہے۔

دریا کبھی انسان کا دشمن نہیں ہوتا۔وہ صرف اپنا راستہ مانگتا ہے۔ہم نے اس کے کنارے تنگ کیے، اس کے قدرتی راستوں کو سکوڑا، دلدلی علاقوں کو ختم کیا، جنگلات کو کم کیا اور پھر حیران ہوئے کہ پانی اپنے راستے کیوں بدل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں، حال کی حقیقت ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب صرف دریاؤں، باغات ،کھیتوں اور پہاڑوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرنے لگے ہیں۔ رواں برس غیر معمولی بارشوں اور ناموافق موسمی حالات کے باعث گرمائی تعطیلات میں کئی مرتبہ توسیع کرنا پڑی۔ آج جب انہی حالات کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں، تو یہ صرف اسکولوں کی واپسی نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں، ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہے۔

اس تبدیلی کے اثرات اب صرف دریاؤں ،باغات یا کھیتوں تک محدود نہیں رہے۔ ہماری روزمرہ زندگی بھی اس کی زد میں آ چکی ہے۔ گزشتہ برس متعدد مرتبہ ناموافق موسمی حالات کے باعث تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں توسیع کرنا پڑی، اور آج جب انہی غیر معمولی موسمی حالات کے بعد اسکول دوبارہ کھلے ہیں تو یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب کتابوں کا موضوع نہیں، ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ بارشوں کا انداز بدل رہا ہے، موسم غیر متوقع ہوتے جا رہے ہیں اور ایسے واقعات ہمیں بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے آج منصوبہ بندی نہ کی تو کل شاید ہمارے پاس صرف افسوس رہ جائے۔

23، 24 اور25 جولائی گزر گئے۔بارشیں تھم گئیں۔جہلم بھی اپنے معمول پر لوٹ آیا۔لوگ اپنے گھروں، دکانوں اور روزگار کی طرف واپس چلے گئے۔ سیاسی سرگرمیاں بھی پھر اسی رفتار سے شروع ہو گئیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مگر سوال آج بھی وہی ہے جو جہلم نے اپنی خاموش سرگوشی میں ہم سب سے پوچھا تھا۔’کیا تم نے اس بار کچھ سیکھا؟‘اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں، تو یقین مانیے اگلی بار سرگوشی شاید اتنی خاموش نہ ہو۔کیونکہ دریا ہمیشہ پہلے خبردار کرتے ہیں، سزا بعد میں دیتے ہیں۔

جہلم آج بھی خاموشی سے بہہ رہا ہے، لیکن اس کی خاموشی میں ایک پیغام پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے اس کی زبان کو نہ سمجھا، اگر ہم نے ماحول، آبی گزرگاہوں اور شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو شاید آئندہ اس کی سرگوشی ایک ایسی للکار میں بدل جائے جسے سننے کے بعد سنبھلنے کا وقت باقی نہ رہے۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، سبق سیکھنے کا ہے۔اگر ہم نے اس بار بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ شاید ہمیں معاف کر دے، مگر فطرت کبھی نہیں کرے گی۔دریا آج بھی خاموشی سے بہہ رہا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ۔۔۔ کیا ہم نے اس کی سرگوشی سن لی ہے؟ کیونکہ خاموش خطرہ ابھی ٹلا نہیں، وہ اب بھی برقرار ہے۔

[email protected]

Popular Categories

spot_imgspot_img