لہہ، 11 ستمبر : لہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے لداخ کے لیے مکمل ریاست کا اپنا مطالبہ ترک کر دیا ہے اور اب وہ موجودہ مرکز کے زیرِ انتظام خطے (یونین ٹریٹری) کے ڈھانچے کے اندر ایک مکمل منتخب حکومت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں اپنی قانون ساز اسمبلی، اپنے اراکینِ اسمبلی (ایم ایل ایز) اور وزیرِ اعلیٰ کے علاوہ پولیس اور امن و قانون پر بھی اختیار شامل ہو۔
ایل اے بی کے چیئرمین چیرنگ دورجے لکرک نے خبر رساں ادارے کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کو بتایا، ”ہم نے ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ اب ایل اے بی اور کے ڈی اے کی توجہ موجودہ مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے فریم ورک کے اندر ایک مکمل منتخب حکومت کے قیام پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ انتظام میں ایک منتخب قانون ساز اسمبلی، منتخب اراکینِ اسمبلی اور حکومت کی سربراہی کے لیے ایک وزیرِ اعلیٰ شامل ہونا چاہیے۔
دورجے نے کہا کہ منتخب حکومت کے پاس پولیس اور امن و قانون کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ مرکز کے سامنے پیش کیے جانے والے مطالبات کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہے جب لداخ کے مستقبل کے حکومتی ڈھانچے کے حوالے سے مرکزی حکومت اور ایل اے بی و کے ڈی اے کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
مرکزی حکومت لداخ کے لیے ایک ممکنہ خصوصی آئینی انتظام پر غور کر رہی ہے، جس میں مرکز کے زیرِ انتظام خطے کی سطح پر ایک منتخب ادارہ بھی شامل ہے۔ تاہم، لداخ کی تنظیمیں اس منتخب ادارے کے لیے وسیع تر قانون ساز اور انتظامی اختیارات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
دورجے نے بتایا کہ مرکزی حکومت اور لداخ کی تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان اگلی ملاقات اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مقرر کی گئی ہے۔
پولیس اور امن و قانون پر اختیار کا مطالبہ مرکزی حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اہم اور متنازع معاملات میں شامل رہا ہے۔ لداخ کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکمرانی کے اہم شعبے منتخب حکومت کے اختیار سے باہر رہیں تو منتخب حکومت کو مکمل اختیارات حاصل نہیں ہوں گے۔
مرکزی حکومت کا مجوزہ فریم ورک ابھی زیرِ بحث ہے، جبکہ کسی بھی منتخب ادارے کے حتمی اختیارات اور ڈھانچے کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
کے این ٹی





