
نئی دہلی: قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ یو جی) کے پیپر لیک معاملے پر ملک بھر میں جاری احتجاج کے درمیان حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پیپر لیک کے مقدمات کی فوری سماعت اور ملزمان کو جلد سخت سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مفادات اور ان کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا،”ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پیپر لیک کے تمام مقدمات میں قصورواروں کو جلد از جلد سخت سزا دلانے اور مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے اقدامات کی یہ ایک اہم کڑی ہے۔”انہوں نے ایک بار پھر دوہرایا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے کسی بھی فرد کو بخشا نہیں جائے گا۔
اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کا پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مظاہرہ

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ متعدد اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی کے مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ہاتھوں میں تختیاں اور بینر لے کر نعرے بازی کر رہے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ مسٹر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار کے سامنے جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں محترمہ گاندھی اور مسٹر کھرگے کے علاوہ پارٹی لیڈر راہل گاندھی، محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینو گوپال، گورو گگوئی، کے سریش، مانیکم ٹیگور، عمران پرتاپ گڑھی، ایس پی کے الھلیش یادو، محترمہ سپریا سلے (این سی پی-شرد)، سوگت رائے اور ساکیت گوکھلے (ترنمول کانگریس) نیز دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ شامل تھے۔
پیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیپر لیک معاملے پر فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کو نا کافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اعلانات کرنے کے بجائے پیپر لیک معاملات پر جواب دہی طے کی جانی چاہئے۔
مسٹر کھرگے اور مسٹر گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ طلباء کے مطالبات واضح ہیں کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کر کے طلباء سے معافی مانگی جائے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر فورسز کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت نے پیپر لیک کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانے اور معاملے کی منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے میں اپنی ناکامی دکھائی ہے۔
کانگریس لیڈروں نے کہا کہ وزارت تعلیم نے پہلے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں کوئی پیپر لیک نہیں ہوا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے سچائی قبول کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے لوگوں کو گمراہ کیا اور اب جواب دہی سے بچنے کے لئے نئے اعلانات کر رہی ہے۔
اس دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے کہا کہ حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے، جبکہ طلباء کو انصاف اور مجرموں کے خلاف ٹھوس کارروائی چاہئے۔ پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم کا اعلان بہت کم اور بہت دیر سے آیا اور یہ بھی گمراہ کن ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت نے پیپر لیک معاملات کی تحقیقات میں شفافیت نہیں برتی اور طلباء کے حقیقی خدشات کو نظر انداز کیا۔
یو این آئی




