راجوری، پونچھ اور ڈوڈہ کے سیلابی ریلوں کے متاثرین کو خراجِ عقیدت؛ دو منٹ کی خاموشی اختیار کی؛ کہا کہ مرکز متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے؛ مہم کے دوران 20,000 سے زائد ایف آئی آر درج، 188.9 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط
سرینگر،: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو کہا کہ منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جموں و کشمیر کی لڑائی ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 روزہ "نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان” صرف ایک آغاز ہے اور یہ ایک طویل المدتی مشن کا حصہ ہے۔ انہوں نے منشیات کے اسمگلروں کو خبردار کیا کہ قانون کے تحت ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
سرینگر میں شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) میں 100 روزہ مہم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی تقریر کا آغاز راجوری، پونچھ اور ڈوڈہ میں حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرکے کیا۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور حکومتِ ہند کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے متاثرین کی مشکلات کم کرنے اور بروقت امداد کی فراہمی کے لیے شب و روز کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
منشیات مخالف مہم پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا:
"یہ 100 روزہ مہم صرف آغاز ہے۔ ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آگے کا سفر طویل اور چیلنجوں سے بھرپور ہے، اور ہمیں مزید عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے چار سال قبل نشہ مکت بھارت ابھیان کا آغاز کیا تھا، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مسلسل ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منشیات مخالف اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس قومی مہم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کئی برسوں سے منشیات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، تاہم نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت کے باعث انتظامیہ نے پورے جموں و کشمیر میں خصوصی 100 روزہ مہم شروع کی۔
اپنے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ وہ تمام 20 اضلاع میں گئے اور ان خاندانوں سے ملاقات کی جو منشیات کی لعنت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"میں نے والدین کا درد، ماؤں کی تکلیف اور ان خاندانوں کی امید دیکھی جو اپنے پیاروں کی معمول کی زندگی میں واپسی کے منتظر ہیں۔ جموں و کشمیر میں اپنے چھ سالہ دور میں میں نے اتنی بڑی عوامی تحریک پہلے کبھی نہیں دیکھی۔”
انہوں نے اس مہم کو عوامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو مہم ابتدا میں حکومتی اقدام تھی، وہ رفتہ رفتہ عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی جس میں جموں و کشمیر کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔
مہم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ:
- 20,292 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
- 92 منشیات فروش نیٹ ورک ختم کیے گئے۔
- 4,474 منشیات کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی۔
- منشیات کے کاروبار سے وابستہ 188.9 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ PIT-NDPS ایکٹ کے تحت بھی سخت کارروائیاں کی گئیں، جن کے تحت:
- 884 ڈرائیونگ لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی۔
- 687 گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ یا معطل کرنے کی سفارش کی گئی۔
- 64 پاسپورٹ ضبط کیے گئے۔
- 8 اسلحہ لائسنس معطل کیے گئے۔
- جبکہ منشیات سے متعلق مقدمات میں مناسب صورتوں میں سکیورٹی کور بھی واپس لیا گیا۔
منشیات فروشوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
"یہ ان لوگوں کے لیے آخری وارننگ ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بچ جائیں گے۔ جو لوگ ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں منشیات بیچ کر تباہ کرتے ہیں، وہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ اگر آپ دوسروں کی زندگی برباد کریں گے تو قانون آپ کو بھی نہیں بخشے گا۔”
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشوں کے بارے میں معلومات پولیس کو فراہم کرکے اس مہم میں بھرپور تعاون کریں۔
انہوں نے کہا:
"وقت آ گیا ہے کہ شہری معاشرہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کا سماجی بائیکاٹ کرے۔ اس سماجی برائی کے خاتمے اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی تعمیر کے لیے عوامی شرکت ناگزیر ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے نشے کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو معمول کی زندگی میں واپس لانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے میں ماؤں اور خواتین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کر رہا ہے، اسی طرح منشیات کے کاروبار اور اس کے دہشت گردی سے تعلق کو بھی مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں یہ مہم مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا:
"یہ مہم کا اختتام نہیں بلکہ صرف آغاز ہے۔ ہم سب مل کر اس مشن کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک جموں و کشمیر منشیات کی لعنت سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو جاتا۔” — (کے این او)





