نئی دہلی، 10 جون: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت این آئی اے (قومی تحقیقاتی ایجنسی) کی جانب سے درج مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں ضمانت دے دی۔
جسٹسنوین چائولا اور جسٹس رویندر جٹیجا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے خرم پرویز کی اس اپیل کو منظور کر لیا جس میں انہوں نے 17 دسمبر 2024 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
فیصلہ سناتے ہوئے بینچ نے کہا، ’’ہم نے مختلف شرائط کے ساتھ ضمانت منظور کر لی ہے۔‘‘خرم پرویز کو 22 نومبر 2021 کو سرینگر سے اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ متعدد مرتبہ پولیس ریمانڈ کے بعد انہیں 25 فروری 2022 کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔
19 دسمبر 2024، یعنی اپیل دائر کیے جانے تک، خرم پرویز تقریباً تین سال اور ایک ماہ تک حراست میں رہ چکے تھے۔این آئی اے کا الزام ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم Lashkar-e-Taiba (LeT) (لشکر طیبہ ) سے منسلک ایک نیٹ ورک اوور گراؤنڈ ورکرز (OGWs) کی بھرتی کرتا تھا، سکیورٹی تنصیبات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا تھا اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا تھا۔ خرم پرویز کو اسی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا، حالانکہ ان کا نام اصل ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا۔
چارج شیٹ کے مطابق ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لشکرِ طیبہ کے لیے اوور گراؤنڈ ورکرز بھرتی کیے، فوج کی نقل و حرکت اور ڈھانچے سے متعلق معلومات جمع کیں، پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں سے روابط رکھے، اور 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ کے الزامات شواہد سے ثابت نہیں ہوتے اور خرم پرویز این آئی اے کی جانب سے بیان کردہ مبینہ بڑی سازش سے ’’حقیقتاً غیر متعلق‘‘ ہیں۔
خرم پرویز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ کوئی ڈیجیٹل ثبوت موجود نہیں جو کسی کالعدم دہشت گرد تنظیم کے ارکان کے ساتھ ان کے رابطے کو ظاہر کرے، اور نہ ہی ان اور شریک ملزم منیر احمد کٹیرا کے درمیان مبینہ ملاقات کے حوالے سے کال ڈیٹیل ریکارڈز جمع کیے گئے۔
یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ خرم پرویز نے حساس فوجی معلومات کسی دہشت گرد کارندے تک پہنچائیں، اور نہ ہی انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کے کسی مبینہ مالیاتی سلسلے سے جوڑنے والا کوئی الزام موجود ہے۔
بشکریہ: لائیو لأ





