ادھم پور،: بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویدی نے بدھ کے روز فوج کی شمالی کمان کی آپریشنل تیاری،جنگی صلاحیت اور جدید کاری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس دوران ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، کثیر جہتی (ملٹی ڈومین) آپریشنز اور مستقبل کے میدانِ جنگ کی صلاحیتوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے شمالی کمان ہیڈکوارٹر اور مختلف فارمیشن ہیڈکوارٹرز کے افسران سے ہائبرڈ طرز پر بات چیت کی اور آپریشنل تیاری، صلاحیتوں میں اضافے اور فوجی کارروائیوں میں شامل کی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
حکام نے جنرل دویدی کو کثیر جہتی آپریشنز کے انعقاد، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فوجی جدید کاری اور مختلف آپریشنل حالات میں مربوط جنگی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت پر زور دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پیچیدہ ہوتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں آپریشنل مؤثریت بڑھانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانا اور اختراع (انوویشن) کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بدلتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ مسلسل تکنیکی ترقی، جدید کاری اور صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
جنرل دویدی نے تمام درجات کے افسران اور فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل کارکردگی اور ہمہ وقت تیاری کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کی تعریف کی۔
یہ جائزہ فوج کی اُس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف کمانڈز میں آپریشنل صلاحیتوں اور جدید کاری پروگراموں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جا سکے۔
یہ دورہ 31 مئی کو جنوبی کمان کے ہیڈکوارٹر میں کیے گئے اسی نوعیت کے جائزے کے بعد ہوا ہے، جہاں آرمی چیف نے صلاحیتوں کی ترقی، جدید کاری کی کوششوں اور فوجی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجیز کے انضمام کا جائزہ لیا تھا۔

فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج اپنی طویل المدتی جدید کاری حکمتِ عملی کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی نظام، مربوط آپریشنز اور بہتر جنگی تیاری پر مسلسل زور دے رہی ہے۔
[کے این ٹی]





