مجسمہ سازی سے وازوان تک، کشمیری زبان سے ولر جھیل تک، دانشوروں، ادیبوں اور ماہرین نے کشمیر کی تہذیبی شناخت کے مختلف پہلو اجاگر کئے
شوکت ساحل
سرینگر:کشیر ہسٹری فائو نڈیشن کی جانب سے سرینگر کے ہوٹل نہروز میں منعقدہ تین روزہ کانفرنس(Travelling Museum & Cultural Festival)کے دوسرے روز مختلف علمی، ادبی، تہذیبی اور ماحولیاتی موضوعات پر مشتمل چھ الگ الگ سیگمنٹس منعقد کئے گئے، جن میں مقررین نے کشمیری تہذیب و تمدن، زبان، تاریخ، دستکاری، ماحولیات، فنونِ لطیفہ، ثقافتی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کے مختلف پہلوئوں پر اپنے مقالے، پرزینٹیشنز اور خیالات پیش کئے۔ تقریب میں دانشوروں، ادیبوں، قلمکاروں، اسکالروں، فنکاروں، ماہرین ماحولیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔دوسرے روز کی کارروائی کی نظامت معروف کشمیری افسانہ نگار اور کالم نویس شکیل الرحمان نے انجام دی، جبکہ مختلف نشستوں کی صدارت علمی و ادبی شخصیات نے کی۔

تقریب کا آغاز(Sculpture & Iconography in Medieval Kashmir) کے عنوان سے منعقدہ پہلے سیگمنٹ سے ہوا، جس کی صدارت معروف اسکالر محترمہ گوہر یعقوب نے کی۔ اس موقع پر معروف آرٹ ہسٹورین اور کیوریٹر ڈاکٹر گوری پاریمو کرشنن نے مفصل پرزینٹیشن پیش کرتے ہوئے کشمیر کی قرونِ وسطیٰ کی تاریخ، مجسمہ سازی، مذہبی علامتوں اور فنِ تعمیر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی قدیم تہذیب میں مجسمہ سازی محض فنکارانہ اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور روحانی شعور کی نمائندہ رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ہندو مذہبی روایات، مندروں، سنگ تراشی اور علامتی فنون کے تاریخی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تہذیب مختلف روحانی اور ثقافتی روایات کا حسین امتزاج رہی ہے۔
اسی سیگمنٹ میں معروف مجسمہ ساز اور انسٹیٹیوٹ آف فائن آرٹس، یونیورسٹی آف کشمیر کے سابق پرنسپل شبیر مرزا نے کشمیر کی تاریخ میں مجسمہ سازی کے کردار اور اہمیت پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پتھروں پر تراشی گئی تاریخ آج بھی کشمیر کی تہذیبی عظمت کی خاموش گواہ ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کی قدیم مجسمہ سازی میں صرف مذہبی اظہار ہی نہیں بلکہ انسانی احساسات، ثقافتی ارتقاءاور فکری آزادی کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

اس موقع پر صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے محترمہ گوہر یعقوب نے کہا کہ دونوں مقررین نے اپنے مکالموں اور پرزینٹیشنز کے ذریعے واضح کیا کہ کشمیر کی تاریخ میں مجسمہ سازی کس قدر اہم اور وسیع موضوع رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی تاریخ فنونِ لطیفہ، سنگ تراشی اور تخلیقی اظہار سے مالا مال رہی ہے، جسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
دوسرے سیگمنٹ (History of Kashmiri Cuisine) کی صدارت معروف ادیب و شاعر حسرت گڈھا نے کی، جبکہ معروف ماہرِ ورثہ اور( INTACH )جموں و کشمیر چیپٹر کے کنوینر سلیم بیگ نے کشمیری پکوانوں کی تاریخ، ان کے تہذیبی پس منظر اور وسطی ایشیا و ایران کے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پکوان صدیوں پر محیط ثقافتی روابط، مقامی ذائقوں اور تہذیبی میل جول کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے وازوان، روایتی دیسی پکوانوں، خشک سبزیوں، نانوں اور کشمیری ذائقوں کی تاریخی اہمیت بیان کی۔
تاہم حسرت گڈھا نے اپنے صدارتی خطاب میں سلیم بیگ کے بعض نکات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری وازوان کے صرف چند مخصوص پکوان، خصوصاً رِستہ، گوشتابہ اور کباب وسطی ایشیا یا ایران سے متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ بیشتر کشمیری پکوانوں کی اپنی مقامی اور قدیم تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے روایتی کھانوں میں یہاں کی آب و ہوا، زراعت، پہاڑی تہذیب اور صدیوں پر محیط سماجی زندگی کی جھلک نمایاں طور پر موجود ہے۔

تیسرے سیگمنٹ(Kasheer and We Kashmiris) کی صدارت معروف شاعر، ادیب اور ماہرِ لسانیات پروفیسرپدم شری محمد شفیع شوق نے کی، جبکہ ڈاکٹر رتن لال ہانگلو نے کشمیری زبان، تاریخ اور تہذیبی شناخت پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کشمیری زبان کی تاریخ اس قدر قدیم ہے کہ سنسکرت اور دیگر زبانوں میں بھی کشمیری الفاظ اور اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے قدیم ادب، لوک روایت اور علمی سرمایہ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
پروفیسر محمد شفیع شوق نے اپنے صدارتی خطاب میں سیگمنٹ کے عنوان کے بعض حصوں پر علمی اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زبان کا ”evolution “نہیں بلکہ ”transformation“ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر رتن لال ہانگلو کے مکالمے کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیری زبان ہی کشمیریوں کی اصل شناخت ہے اور ہزاروں برسوں سے یہی زبان کشمیری تہذیب، ثقافت اور اجتماعی شعور کی نمائندہ رہی ہے۔
چوتھے سیگمنٹ(Shrinking Water Bodies & Environmental Degradation)کی صدارت اسکالر ڈاکٹر ارشد جہانگیر نے کی، جبکہ معروف ماہر ماحولیات اعجاز نقشبندی نے اعداد و شمار اور بصری پرزینٹیشن کے ذریعے کشمیر میں جھیلوں، آبی ذخائر اور آبی گاہوں کے تیزی سے سکڑتے رقبے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ڈل جھیل، ولر جھیل اور دیگر آبی ذخائر کی بگڑتی صورتحال پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ اداروں اور حکومتی بے حسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ڈاکٹر ارشد جہانگیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اجتماعی شعور اور مربوط پالیسی ناگزیر ہے۔ انہوں نے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کو کشمیر کی تاریخ اور تہذیبی مباحث کا حصہ بنانا ایک اہم اور بروقت قدم ہے، کیونکہ آب و ہوا اور آبی وسائل کا کشمیر کی تہذیب اور تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔
اس دوران بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان نصیر احمد ڈار نے منتظمین کی اجازت سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان پیشہ ور ماہی گیر ہے اور ولر جھیل کے ساتھ ان کی روزی روٹی براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر ولر جھیل کا تحفظ ممکن نہیں۔ انہوں نے سیاحتی سرگرمیوں، مجوزہ بلیوارڈ روڈز اور ویو پوائنٹس پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جھیلوں کا تحفظ صرف نمائشی منصوبوں سے ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آبی حیات، خصوصاً مچھلیوں کی کئی اقسام نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس کی بنیادی وجوہات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی گفتگو کے دوران کانفرنس ہال کئی مرتبہ تالیوں سے گونج اٹھا۔

پانچویں سیگمنٹ(Living & Endangered Crafts of Kashmir) کی صدارت پروفیسر فاروق فیاض نے کی، جبکہ سلیم بیگ نے کشمیر کی دستکاریوں کی تاریخ، ان کی تہذیبی بنیادوں اور عالمی شناخت پر تفصیلی پرزینٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی دستکاریاں صرف تجارتی سرگرمی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیبی شعور اور تخلیقی روایت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس تصور کو رد کیا کہ کشمیری دستکاریاں مکمل طور پر بیرونی اثرات کی مرہونِ منت ہیں اور کہا کہ تاریخی شواہد کشمیر کی اپنی منفرد اور قدیم دستکاری روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر فاروق فیاض نے کہا کہ اسٹون کرافٹ، براس ویئر اور تانبے کے برتن سازی جیسے فنون کشمیر کی قدیم ترین دستکاریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستکاریوں کے نادر نمونے برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور کولکتہ کے قومی میوزیم میں محفوظ ہیں، جو کشمیر کی فنی عظمت اور تاریخی شناخت کا ثبوت ہیں۔
چھٹے سیگمنٹ میں نوشاد غیور اور شوکت کاٹھجو نے فنِ مصوری، کشمیری تہذیب، سماجی ہم آہنگی اور کشمیری مسلمانوں و پنڈتوں کے درمیان صدیوں پر محیط رواداری پر اظہارِ خیال کیا۔مقررین نے کہا کہ کشمیری آرٹ ہمیشہ انسان دوستی، رنگوں کے تنوع اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔

تقریب کے اختتام پر رنجن نہرو نے کانفرنس کے آئندہ لائحہ عمل پر روشنی ڈالی، جبکہ خورشید قادری نے تحریکِ تشکر پیش کی۔ آخر میں مہمانوں اور شرکاءکے لئے محفلِ موسیقی کا اہتمام کیا گیا، جس میں صوفی فنکاروںنے کشمیری نغمے پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں دانشوروں، قلمکاروں، اسکالروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔





