جمعہ, جولائی 17, 2026
33.9 C
Srinagar

میرواعظ کی پانتھہ چوک کی رہائشی آبادیوں میں شراب کی دکانوں کی مجوزہ منتقلی کی شدید مذمت

مذہبی جذبات کے احترام میں امتیاز پر سوال؛ کہا کشمیر میں شراب کے فروغ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، پانتھہ چوک کے عوام کے پُرامن احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان

سرینگر؍میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے آج تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر قومی شاہراہ سے شراب کی دکانوں کو رہائشی آبادیوں میں اور پنتھہ چوک کے اطراف منتقل کیے جانے کی اطلاعات کی شدید مذمت کی۔

میرواعظ نے کہا کہ پنتھہ چوک کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کر کے مجوزہ منتقلی پر اپنی شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گنجان آبادی والے رہائشی علاقے ہیں جہاں خاندان، اسکول، مساجد، تعلیمی اور دینی ادارے اور عوامی مقامات موجود ہیں ان کے قریب شراب کی دکانیں منتقل کرنے سے علاقے کا سماجی اور اخلاقی ماحول بری طرح متاثر ہوگا، جو وہاں کے عوام کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ اسلام نے شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر جیسے مسلم اکثریتی خطے میں حکومت کو شراب کی دستیابی اور اس کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں، مگر اس کے برعکس وہ شراب کی دکانیں لوگوں کے گھروں کے قریب منتقل کر رہی ہے، جو اس معاشرے کے مذہبی تشخص اور اخلاقی حساسیت کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے لوگ اپنے معاشرے میں شراب کے فروغ اور اسے معمول کا حصہ بنانے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: “ہم نے ماضی میں بھی کشمیر میں شراب کے پھیلاؤ کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ شراب افراد کو تباہ کرتی ہے، خاندانوں کو بکھیرتی ہے، نوجوان نسل کو نقصان پہنچاتی ہے اور معاشرے کی اخلاقی اور سماجی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔

حکومت کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے میرواعظ نے کہا: ’’اگر امرناتھ یاترا کے مذہبی تقدس کے پیشِ نظر یاتریوں کے راستے پر شراب کی دکانیں رکھنا نامناسب سمجھا جاتا ہے، تو پھر انہیں ان رہائشی علاقوں میں منتقل کرنا کیسے مناسب قرار دیا جا سکتا ہے جہاں ایسے مسلمان خاندان اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں جن کا مذہب شراب کے استعمال کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے؟ اگر شراب دونوں مذاہب میں نامناسب اور نقصان دہ سمجھی جاتی ہے تو پھر اس پر مکمل پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ مذہبی جذبات کا احترام نہ تو امتیازی ہونا چاہیے اور نہ ہی وقتی۔‘‘

میرواعظ نے کہا کہ پنتھہ چوک کے پورے متاثرہ علاقے کے لوگوں نے اس مجوزہ منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور وہ ان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’جو معاشرہ اپنے اقدار کا دفاع نہیں کرتا، وہ رفتہ رفتہ اپنے اقدار اور روایات کھو دیتا ہے۔ جب ایسے فیصلے مسلط کیے جائیں جو لوگوں کے گھروں، ان کے بچوں اور آنے والی نسلوں کے اخلاقی ماحول کو براہِ راست متاثر کریں، تو لوگ خاموش نہیں رہ سکتے۔‘‘

میرواعظ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تجویز کو فوری طور پر واپس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی رہائشی علاقے، اسکول، مسجد یا دیگر عوامی ادارے کے قریب شراب کی کوئی دکان نہ کھولی جائے اور نہ ہی منتقل کی جائے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کی آواز سنے اور ایسے فیصلے مسلط کرنے سے گریز کرے جو جموں و کشمیر کے عوام کے مذہبی تشخص اور ان کے مشترکہ نظامِ اقدار کے منافی ہوں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img