ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی تین روزہ کانفرنس اختتام پذیر

صوفی موسیقی، فنِ مصوری اور کشمیری تہذیب کے رنگوں نے آخری روز تقریب کو یادگار بنا دیا

شوکت ساحل

سرینگر: کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کے اہتمام سے سرینگر کے ہوٹل نہروز میں منعقدہ تین روزہ کانفرنس بعنوان (Travelling Museum & Cultural Festival) اتوار کو اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے آخری روز کشمیری موسیقی، روایتی موسیقی آلات، صوفی موسیقی، فنِ مصوری، رنگوں، کینوس، ثقافتی ورثے اور کشمیری تہذیب و تمدن کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین، فنکاروں اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اختتامی روز کی نشستوں میں تقاریر، مکالمے، آرٹ پرزنٹیشنز، سوال و جواب اور تجاویز کے مختلف سیشنز منعقد ہوئے، جن میں کشمیر کی تہذیبی روح، صوفی روایت، آرٹ کی تاریخ اور موسیقی کی قدیم روایت کو مرکزِ گفتگو بنایا گیا۔ تقریب کی نظامت نوجوان محقق اور سائنسی پس منظر رکھنے والی شخصیت نہر عاصم پاریمو نے انجام دی، جبکہ مختلف نشستوں میں وادی کے فنکاروں، موسیقاروں، مصوروں اور قلمکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نشست اوّل

(Musical Instruments of Kashmir)

کانفرنس کے آخری روز پہلی نشست کشمیری موسیقی، صوفی روایت اور روایتی موسیقی آلات کے نام رہی، جس کی صدارت وادی کشمیر کے معروف صوفی گلوکار گلزار احمد گنائی نے کی، جبکہ یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ موسیقی سے وابستہ پروفیسر مظفر بٹ نے کشمیری موسیقی کے تاریخی پس منظر، اس کے کلاسیکی رنگ، صوفی روایت اور موسیقی آلات کی تہذیبی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

پروفیسر مظفر بٹ نے کہا کہ کشمیری صوفیانہ کلام اپنی الگ شناخت، مخصوص مقامات اور روحانی اثرات رکھتا ہے، جس میں سنتور، رباب، سازِ کشمیر، ڈاکرا، تمبکناری، نوٹھ، سارنگی اور دیگر روایتی آلات صدیوں سے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان میں سے کئی آلات وسطی ایشیا سے کشمیر پہنچے، تاہم کشمیری فنکاروں نے انہیں اپنی ثقافت، احساس اور روحانی روایت میں اس طرح جذب کیا کہ وہ کشمیر کی تہذیبی شناخت کا حصہ بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی مختلف ادوار میں ہجرت اور نقل مکانی کا اثر کشمیری موسیقی پر بھی پڑا اور یہی موسیقی جنوبی ہندوستان تک پہنچی، جہاں اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کرناٹک موسیقی اور کشمیری کلاسیکی موسیقی کے درمیان کئی فنی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، جو کشمیر کے قدیم ثقافتی روابط کی عکاس ہیں۔

پروفیسر مظفر بٹ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری موسیقی کے قدیم آلات اور ان سے متعلق اصل لٹریچر کو مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جا سکا، جبکہ بیشتر روایتیں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں۔ انہوں نے تاریخی حوالوں اور تصویری پرزنٹیشن کے ذریعے کشمیری موسیقی کے ارتقاء، اس کی روحانی بنیادوں اور ثقافتی تسلسل پر روشنی ڈالی۔

صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے معروف صوفی گلوکار گلزار احمد گنائی نے کہا کہ کشمیر کی صوفی اور کلاسیکی موسیقی کی دنیا میں ایک منفرد شناخت ہے، جس کی بنیاد روحانیت، محبت اور انسان دوستی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری فنکاروں نے وسطی ایشیا سے آنے والے موسیقی آلات کو نہ صرف اپنایا بلکہ ان کی تیاری، مرمت اور بجانے کے فن میں بھی ایک سنہری روایت قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری موسیقی آلات کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں کشمیر کی مخصوص لکڑی، مٹی اور مقامی مواد سے تیار کیا جاتا ہے، جس نے ان آلات کو الگ شناخت عطا کی۔ ان کے مطابق کشمیری صوفی موسیقی صرف فن نہیں بلکہ وادی کی روح، تاریخ اور تہذیبی حافظے کی آواز ہے، جسے محفوظ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر سوالات و جوابات اور آرا و تجاویز کا خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے بھرپور حصہ لیا۔

نشست دوم

(Presentation of Works by Artists)

دوسری نشست کشمیری فنِ مصوری، رنگوں، کینوس اور تخلیقی اظہار کے مختلف پہلوؤں سے متعلق تھی، جس میں معروف فنکاروں اور مصوروں نے اپنے فن پاروں، تجربات اور کشمیر سے اپنے تہذیبی و جذباتی تعلق پر روشنی ڈالی۔

ایوارڈ یافتہ معاصر مصورہ سجاتا کول ڈیرے نے کہا کہ فنِ مصوری دراصل فنکار کی روح، احساسات اور داخلی کیفیات کا خاموش اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعر اپنے اشعار، قلمکار اپنے لفظوں اور مصور اپنے رنگوں اور برش کے ذریعے اپنے جذبات دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، درخت، پرندے، گھوڑے، پہاڑ اور مقدس مناظر ہمیشہ ان کے فن کا حصہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فنِ مصوری صرف خوبصورتی کی عکاسی نہیں بلکہ تہذیب، یادداشت اور انسانی احساسات کو محفوظ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے منتخب فن پاروں کی پرزنٹیشن پیش کی۔

مقررین نے ان کا تعارف ایک ایسی عالمی فنکارہ کے طور پر کرایا جو آرٹ کے ذریعے عالمی امن اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی سطح پر امن کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ماہر ماحولیات اعجاز نقشبندی نے کہا کہ وہ پیشہ ور مصور نہیں تھے، تاہم کشمیر کے بدلتے ماحولیاتی حالات اور قدرتی مناظر نے انہیں فنِ مصوری کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں دبئی کے سفر کے دوران پہلی مرتبہ برش اور کینوس ان کے ہاتھ میں دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے کشمیر کو اپنی آنکھوں سے جیسے دیکھا، ویسے ہی رنگوں میں قید کرنے کی کوشش کی۔

پانچ دہائیوں سے فنِ مصوری سے وابستہ اسلم نقشبندی نے کہا کہ نوجوان نسل کو آرٹ کی جانب راغب کرنے کے لیے ایسے ثقافتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور تخلیقی ماحول کی فراہمی سے ہی کشمیر میں فنونِ لطیفہ کو نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔

رنجن نہرو نے اپنے فن پاروں، شاعری اور بصری اظہار کے امتزاج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تخلیقات میں شاعری، گرافک اظہار اور فائبر گلاس آرٹ کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں، جن کے ذریعے وہ کشمیر کی تہذیب، یادداشت اور ثقافتی احساس کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس موقع پر معروف آرٹ ہسٹورین اور کیوریٹر ڈاکٹر گوری پاریمو کرشنن نے پدم شری ایوارڈ یافتہ ممتاز مصور اور آرٹ ہسٹورین رتن پاریمو کی فنّی خدمات پر خصوصی پرزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حبہ کدل سرینگر سے تعلق رکھنے والے رتن پاریمو کے فن میں کشمیر کی تاریخ، ماحول، تہذیب، ثقافت اور روحانی شناخت کے رنگ نمایاں طور پر جھلکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں فنونِ لطیفہ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پدم شری اعزاز سے نوازا گیا۔

نشست کے دوران سوالات و جوابات اور تجاویز کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں فنکاروں اور شرکاء نے کشمیر میں آرٹ، مصوری اور ثقافتی اظہار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین نے کہا کہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں، فنونِ لطیفہ اور ثقافتی ورثے سے جوڑنے کے لیے ایسے علمی و ثقافتی سلسلے مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہئیں۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر سنندا گنجو نے مہمانوں، مقررین، میڈیا نمائندوں، منتظمین اور ہوٹل انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ، تہذیب، آرٹ، موسیقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی علمی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img