سری نگر، 14 مئی: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بدھ کو کہا کہ اس نے لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس میں 10 ملزمان کے خلاف 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس دھماکے میں 11 افراد ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
این آئی اے کے مطابق، 10 نومبر 2025 کو نئی دہلی کے لال قلعہ علاقے میں ہونے والا ہائی انٹینسٹی وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (VBIED) دھماکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سبب بھی بنا تھا۔
ایجنسی نے بتایا کہ تمام 10 ملزمان، جن میں مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر النبی (متوفی) بھی شامل ہیں، تنظیم انصار غزوۃ الہند (AGuH) سے وابستہ تھے، جو القاعدہ ان دی انڈین سب کانٹیننٹ (AQIS) کی ایک شاخ ہے۔
چارج شیٹ نئی دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی ہے۔
چارج شیٹ میں شامل دیگر ملزمان میں عامر رشید میر، جسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد وگے، سویب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار شامل ہیں۔
این آئی اے کے مطابق مقدمہ یو اے پی اے، بھارتیہ نیائے سنہتا، ایکسپلوسیو سبسٹینس ایکٹ، آرمز ایکٹ اور پبلک پراپرٹی نقصان روک تھام ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ بعض شدت پسند نظریات رکھنے والے طبی پیشہ ور افراد نے 2022 میں سری نگر میں ایک خفیہ میٹنگ کے دوران “AGuH Interim” کے نام سے تنظیم کو دوبارہ منظم کیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق، “آپریشن ہیونلی ہند” کے تحت ملزمان نے جمہوری حکومت کو گرانے اور شریعت نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
این آئی اے نے مزید کہا کہ ملزمان نے دھماکہ خیز مواد تیار کیا، اسلحہ جمع کیا اور مختلف اقسام کے آئی ای ڈیز کے تجربات کیے۔ دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد TATP تھا، جسے مبینہ طور پر خفیہ طریقے سے تیار کیا گیا تھا۔اب تک اس کیس میں 11 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔





