ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

"پاکستان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے، لیکن مذاکرات کی کھڑکی کھلی رکھی جائے”: جنرل سکریٹری،آر ایس ایس 

پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ کھڑکی کھلی ہونی چاہیے: دتاتریہ ہوسابلے
آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے یاد دلایا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں سابق وزیر اعظم نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا تھا اور لاہور تک بس کے ذریعے سفر بھی کیا تھا۔

نئی دہلی: آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری  دتاتریہ ہوسابلے نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بھارت کو پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا سخت جواب دینا چاہیے، تاہم مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھنے چاہییں۔

ہوسابلے نے یاد دلایا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں سابق وزیر اعظم نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا تھا اور لاہور تک بس کے ذریعے بھی گئے تھے۔

انہوں نے کہا،:“ہر طریقہ آزمایا جا چکا ہے اور ایسی مزید کوششیں جاری رہنی چاہییں۔ اٹل جی نے ان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی۔ وہ بس کے ذریعے لاہور گئے اور بہت کچھ ہوا۔ ہمارے موجودہ وزیر اعظم نے بھی حلف برداری کے وقت پاکستان کو دعوت دی تھی، پھر وہ ایک پاکستانی رہنما کی شادی کی تقریب میں بھی شریک
ہوئے۔ اس لیے یہ تمام اقدامات ہم آزما چکے ہیں۔”

بی جے پی کے نظریاتی سرپرست ادارے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا،:“اگر پاکستان پلوامہ جیسے واقعات کے ذریعے سوئی چبھونے جیسی حرکتیں کرتا ہے تو ہمیں حالات کے مطابق مناسب جواب دینا ہوگا، کیونکہ کسی بھی ملک اور قوم کی سلامتی اور عزتِ نفس کا تحفظ ضروری ہے اور وقت کی حکومت کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا،:“لیکن اسی کے ساتھ ہمیں دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔ ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی لیے سفارتی تعلقات برقرار رکھے جاتے ہیں، تجارت جاری رہتی ہے اور ویزے بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ان چیزوں کو بند نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک کھڑکی کھلی رہنی چاہیے۔”

پڑوسی ممالک کے درمیان کھیلوں کے مقابلوں کے جاری رہنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا،:“بالکل، یہ جاری رہ سکتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا،:“میرے خیال میں یہی ایک امید ہے، کیونکہ مجھے پختہ یقین ہے کہ آخرکار سول سوسائٹی کے تعلقات ہی کام آئیں گے۔ ہمارے درمیان ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک ہی قوم رہے ہیں۔”

فی الحال بھارت کی پالیسی یہ ہے کہ دہشت گردی جہاں کہیں بھی چھپی ہو، بشمول پاکستان، اس کے خلاف کارروائی کی جائے، جیسا کہ آپریشن سندور سے ظاہر ہوا۔ اس آپریشن میں بھارتی فضائیہ نے قیادت کی اور پاکستانی فوج کو اس وقت سخت جواب دیا جب پاکستان سے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے گزشتہ سال جموں و کشمیر کے پہلگام میں 26 سیاحوں کو ہلاک کیا تھا۔

دہشت گردوں اور فوجی اہداف کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا، فضائی اڈوں کے ڈھانچے جل کر تباہ ہو گئے، کنکریٹ کے ہینگرز کی چھتوں میں بڑے سوراخ پڑ گئے، جبکہ جدید فضائی دفاعی ریڈار سسٹمز کے ٹکڑے بکھر گئے۔ یہ سب بھارت کے جدید کروز میزائلوں، ڈرونز اور انتہائی درستگی والے گلائیڈ بموں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

آپریشن سندور، جسے پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل حمایت کے جواب میں بھارتی فوج کا نصف صدی میں سب سے بڑا کثیر جہتی جنگی مشن قرار دیا جا رہا ہے، نے بھارت کے وسیع تر سکیورٹی اور اسٹریٹجک اہداف کو نئی شکل دی ہے۔

ہوسابلے نے کہا کہ، "میرے خیال میں یہی ایک امید ہے، کیونکہ مجھے پختہ یقین ہے کہ بالآخر سول سوسائٹی کے تعلقات (کام کریں گے۔) کیونکہ ہمارا ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک ملک رہے ہیں، لہذا، اس پر زور دینا ہوگا۔”

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری سے پوچھا گیا کہ بھارت کے خلاف پاکستان اور اس کی دہشت گردی کی مسلسل سرپرستی سے کیسے نمٹنا چاہیے۔

انہوں نے ممبئی، پلوامہ اور پہلگام جیسے دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "دیکھیں ہر چیز کو (سفارتی طور پر) آزمایا گیا ہے اور پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ تجارت، ویزوں کا اجراء بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ "بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک کھڑکی (کھلی) ہونی چاہیے”۔ہوسابلے نے مزید کہا کہ اسی لیے سفارتی تعلقات برقرار رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہاں (پاکستان میں) ماہرین تعلیم، کھلاڑیوں، سائنس دانوں اور کمیونٹی لیڈروں کو آگے آنا چاہئے، کیونکہ ان کی سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے ہندوستان سے نفرت کو فروغ دیا ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img