"نیشنل کانفرنس ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے، ہر حال میں غرق ہوگی؛ حکومت اشرافیہ کے لیے ہے، عام آدمی کے لیے نہیں”
سری نگر، 13 مئی: جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے بدھ کے روز عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہیڈکوارٹر شاید میراتھن ٹریکس اور گلمرگ کی اسکی ڈھلوانوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل کمار شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ کی حکومت میں بدانتظامی اور کرپشن اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا،:“اگر آپ عمر عبداللہ یا ان کے وزراء کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو سول سیکرٹریٹ نہ جائیں، بلکہ انہیں میراتھن ٹریکس اور گلمرگ کی اسکی ڈھلوانوں کے درمیان کہیں تلاش کریں۔”
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ کی حکومت صرف اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے اور عام لوگوں کے مسائل سے بے پروا ہے۔
شرما نے کہا،:“عمر عبداللہ کی حکومت نے لیز میں توسیع کے بل کو متعارف کرانے کی اجازت دے کر کشمیر کے امیر طبقے کے مفادات کا تحفظ کیا، جنہیں انتہائی کم قیمت پر زمین فراہم کی گئی ہے۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے عام لوگوں کو درپیش مسائل سے حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اسپتالوں کا دورہ کریں تو وہاں نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ پورے یو ٹی کی سڑکیں خستہ حال ہیں اور لوگوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کے بجائے بھاری بجلی بلوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔”
شراب بندی کے مطالبے پر جاری تنازعہ کے حوالے سے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ عمر عبداللہ کا بیان غرور اور تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا،:“یہ نہ صرف نیشنل کانفرنس کے وعدوں سے یو ٹرن ہے بلکہ حسبِ معمول ان کے متکبرانہ رویے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے ایک رکنِ پارلیمان نے انتخابی مہم کے دوران شراب بندی کی بات کی تھی۔”
واضح رہے کہ اتوار کے روز عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ اس بیان پر تنقید کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی مخالفین نے “توڑ مروڑ” کر پیش کیا۔
نیشنل کانفرنس میں ایکناتھ شنڈے جیسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنے بیان پر ہونے والے تنازعہ کے بارے میں سوال کے جواب میں شرما نے کہا کہ پارٹی ایک ڈوبتا ہوا جہاز بن چکی ہے اور ہر صورت غرق ہوگی۔
انہوں نے کہا،:“نیشنل کانفرنس ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے۔ اس کے اراکین پارٹی چھوڑنے کے لیے بے چین ہیں لیکن ابھی کوئی انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میں پورے اختیار کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی اور اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔”
شرما نے راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر اس موضوع پر بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
(کے این او)





