سٹی رپورٹر
سری نگر: سری نگر میں منگل کے روز جموں و کشمیر کنٹریکٹرز کوآرڈینیشن کمیٹی (جے کے سی سی سی) کے اراکین نے راجباغ سرینگر میں واقع چیف انجینئرنگ کمپلیکس کے احاطے میں پرامن احتجاج کیا۔ مظاہرین نے جل جیون مشن کے تحت واجب الادا 1500 کروڑ روپے سے زائد ادائیگیوں کی فوری واگزاری کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کی قیادت کمیٹی کے چیئرمین غلام جیلانی پرزہ نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ستمبر 2024 سے اب تک مکمل کیے گئے منصوبوں کی ادائیگیاں روکی گئی ہیں، جس کی وجہ سے کنٹریکٹرز، مزدوروں، سپلائرز اور دیگر وابستہ افراد شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
غلام جیلانی پرزہ نے کہا کہ کنٹریکٹرز نے دیانتداری سے پورے خطے میں جل جیون مشن کے تحت گھروں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا، لیکن بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عیدالاضحیٰ سے قبل واجبات جاری نہ کیے گئے تو وادی میں جاری تمام جے جے ایم منصوبے بند کر دیے جائیں گے۔
احتجاج میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کنٹریکٹرز نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی کنٹریکٹرز نے کام جاری رکھنے کے لیے اپنی جائیدادیں رہن رکھ کر قرض لیا، مگر اب ادائیگیاں نہ ملنے کے باعث وہ شدید مالی دباؤ میں ہیں۔
دیگر احتجاجیوں نے صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑے تہوار سے قبل کنٹریکٹرز کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ادائیگیوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو جل جیون مشن اور پی ایچ ای کے تحت جاری تمام کام بند کر دیے جائیں گے۔





