ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

نیا ’شراب بندی‘ فیصلہ: تمل ناڈو کے وزیرِاعلیٰ جوزف وجے کا مندروں، اسکولوں اور بس اڈوں کے قریب 717 دکانیں بند کرنے کا حکم

چنئی: تمل ناڈو کے وزیرِاعلیٰ سی جوزف وجے نے ریاست بھر میں مندروں، اسکولوں اور بس اڈوں کے 500 میٹر کے دائرے میں موجود 717 سرکاری شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ دکانیں ٹاسماک (Tamil Nadu State Marketing Corporation) کے تحت چلائی جاتی ہیں اور انہیں دو ہفتوں کے اندر بند کیا جائے گا۔ یہ حکم سپر اسٹار اداکار اور حکمران جماعت “تملگا ویٹری کژگم” (TVK) کے سربراہ وجے کی جانب سے پہلا بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جن کی جماعت نے گزشتہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔

تاہم، وجے اور ان کی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے انتظار کرنا پڑا کیونکہ انہیں واضح اکثریت کے لیے 10 نشستوں کی کمی کا سامنا تھا۔ ایک ہفتے تک جاری سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس، دو بائیں بازو کی جماعتوں اور ایک چھوٹی تمل جماعت “ودوتھلائی چرُتھائیگل کچی” کی حمایت سے حکومت سازی ممکن ہو سکی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا:“عوامی فلاح و بہبود کو مدِنظر رکھتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیرِاعلیٰ سی جوزف وجے نے احکامات جاری کیے ہیں کہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے 500 میٹر کے اندر واقع 717 شراب کی دکانیں دو ہفتوں کے اندر بند کی جائیں۔”

حکومت کے مطابق اس وقت ریاست میں ٹاسماک کی 4,765 شراب کی دکانیں کام کر رہی ہیں، جن میں سے 276 عبادت گاہوں، 186 تعلیمی اداروں اور 255 بس اڈوں کے قریب واقع ہیں۔

یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا ہے کہ ٹاسماک کی شراب فروخت ریاستی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2025 میں اس سے حاصل ہونے والی آمدنی 48 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔اس اقدام کو وجے کے “نشہ سے پاک تمل ناڈو” کے وعدے کی پہلی عملی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

(میڈیا رپورٹس)

Popular Categories

spot_imgspot_img