نئی دہلی: لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے ہفتہ کو ختم ہونے کے ساتھ ہی ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اسپیکر اوم برلا نے کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کیے جانے سے پہلے کہا کہ 18ویں لوک سبھا کے ساتویں اجلاس کا 28 جنوری کو آغاز ہوا تھا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 28 جنوری کو ہی دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ اجلاس میں 31 نشستیں ہوئیں اور اس میں 151 گھنٹے اور 42 منٹ کام ہوا۔ مسٹر برلا نے کہا کہ یکم فروری کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا تھا۔
اجلاس کے دوران 12 سرکاری بل متعارف کرائے گئے اور نو بل منظور کیے گئے۔ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کیے جانے سے ایک دن پہلے آئین (131ویں ترمیم) بل ضروری اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے منظور نہ ہو سکا۔اجلاس کے دوران 126 نشان زدہ سوالات پوچھے گئے اور عوامی رائے کے 226 معاملے اٹھائے گئے۔ اس اجلاس کی کام کی پروڈکشن صلاحیت 93 فیصد رہی۔
راجیہ سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
پارلیمنٹ کے توسیع شدہ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی ہفتہ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد بجٹ اجلاس کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے اختتامی خطاب میں بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں ہوئے اہم کام کاج کی اطلاع دی اور پھر ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
چیئرمین نے کہا کہ بجٹ اجلاس کا آغاز صدر کے خطاب کے ساتھ ہوا تھا اور بعد میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بامعنی بحث ہوئی اور بعد میں بجٹ منظور کیا گیا۔ مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ اجلاس کے دوران ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت کی جانب سے اہم بیانات دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران کئی اہم بل منظور کیے گئے اور 50 پرائیویٹ بل پیش کیے گئے۔ ایوان کی کارروائی کل 157 گھنٹے اور 40 منٹ تک چلی۔
اجلاس کے دوران ایوان میں 117 سوالات پوچھے گئے اور 207 موضوعات خصوصی تذکرے کے دوران اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی اجلاس میں مسٹر ہری ونش کو تیسری بار ایوان بالا کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اسی اجلاس میں راجیہ سبھا کے 59 ارکان کی مدت کار مکمل ہونے پر انہیں الوداعیہ بھی دیا گیا۔ بجٹ اجلاس دو مرحلوں میں ہوا اور پہلا مرحلہ 28 جنوری سے 13 فروری تک اور دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل کو مکمل ہوا۔
اس کے بعد مہیلا شکتی وندن ادھینیم میں ترمیم کے بل پر بحث کے لیے بجٹ اجلاس کا توسیعی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک منعقد کیا گیا۔
یو این آئی





