ڈھاکہ،: بنگلہ دیش کے جنوب مغربی علاقے میں ایک مسافر بس کے دریائے پدما میں گرنے کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق بس میں تقریباً 40 مسافر سوار تھے۔
یہ حادثہ بدھ کی شام تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر ضلع راجباڑی میں دولتدیا فیری ٹرمینل کے قریب پیش آیا، جو ڈھاکہ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق "سہاردو پاریباہن” کمپنی کی بس فیری پر سوار ہونے کی کوشش کے دوران پونٹون نمبر 3 سے پھسل کر دریا میں جا گری۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق فیری کے قریب پہنچتے وقت بس بے قابو ہو گئی، الٹ گئی اور تقریباً 30 فٹ گہرے پانی میں ڈوب گئی۔ریسکیو اہلکاروں نے ڈوبی ہوئی بس کے اندر سے 22 لاشیں نکال لیں جن میں 6 مرد، 11 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں۔ فائر سروس کے اہلکار طلحہ بن زاسم کے مطابق امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق چار فائر سروس یونٹس، 10 غوطہ خوروں، فوج، پولیس، کوسٹ گارڈ اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔گوالندہ اپازیلا کے ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ آفیسر ڈاکٹر معروف حسین نے بتایا کہ حادثے میں تین افراد کو زندہ نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے دو دم توڑ گئے جبکہ ایک زیر علاج ہے۔
مرنے والوں میں 60 سالہ ریحانہ بیگم اور 55 سالہ مورزینہ بیگم کی شناخت ہو چکی ہے۔ٹرمینل کے ٹرانسپورٹ سپروائزر منیر حسین کے مطابق حادثہ گھاٹ پر فیری کی نقل و حرکت کے دوران پیش آنے والے واقعات کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔
وزیراعظم طارق رحمان نے ریسکیو آپریشن سے متعلق فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔فائر سروس حکام کے مطابق تقریباً چھ گھنٹے کی کوششوں کے بعد بدھ کی نصف شب کو "حمزہ” نامی جہاز اور اس کی کرینوں کی مدد سے بس کو دریا سے نکال لیا گیا۔




