اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فرانس سے تعلق رکھنے والے سفارت کار ژاں آرنو کو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنا ذاتی نمائندہ مقرر کیا ہے۔
ژاں آرنو بین الاقوامی سفارت کاری میں 40 سالہ تجربے کے حامل ہیں اور تنازعات کے پرامن حل اور ثالثی کے شعبے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے افریقہ، ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ میں اقوام متحدہ کے کئی مشن کی قیادت بھی کی ہے۔
2015 سے 2018 تک انہوں نے کولمبیا میں امن مذاکرات کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں جس کے بعد وہ کولمبیا میں ہی سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ رہے۔
انہوں نے 2019 سے 2020 کے دوران بولیویا میں سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے جبکہ 2021 میں انہیں افغانستان اور علاقائی امور کے لیے سیکرٹری جنرل کا ذاتی نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔
انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ژان آرنو ثالثی اور امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے، تمام فریقین سے رابطہ کریں گے اور اس تنازع کے علاقائی اور عالمی اثرات خصوصاً شہریوں کی تکالیف اور اس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے۔
فریقین کو پیغام
سیکرٹری جنرل نے ژان آرنو کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ بے قابو ہو رہی ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ تنازع اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ تجربہ کار رہنما بھی اس کی شدت پر حیران ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی روک کر سفارت کاری کی راہ اپنائی جائے اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام بحال کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے اور دنیا بھر کے مختلف رہنماؤں سے رابطے میں رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ بند کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کی کامیابی نہایت اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو پیغام دیتے ہیں کہ اب جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے، شہری ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات گہرے ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔ سلامتی کونسل ان حملوں کی مذمت اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی ہے اور اس نے آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں میں نقل و حمل کی آزادی کے احترام پر زور دیا ہے۔ اس آبنائے کو بند کیے جانے سے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جبکہ دنیا بھر میں فصلیں کاشت کرنے کے موسم میں ان چیزوں کی اہمیت میں کہیں اضافہ ہو گیا ہے۔
‘جنگ مسئلے کا حل نہیں’
سیکرٹری جنرل نے لبنان میں بھی جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے بند کرنے چاہئیں اور اسرائیل کو لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں اور بمباری روک دینی چاہیے جس سے شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ غزہ جیسی صورتحال لبنان میں نہیں دہرائی جانی چاہیے۔
انہوں نے اس تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں آنے والے خلل، امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور غریب و کمزور طبقات پر اس کے شدید اثرات کا ذکر بھی کیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کا نظام اس جنگ کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کا بہترین حل یہی ہے کہ جنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کے ذریعے ہی اس بحران کا خاتمہ ممکن ہے۔





