جمعہ, فروری ۲۷, ۲۰۲۶
17.3 C
Srinagar

افغان طالبان کا پاکستان میں فضائی حملوں کا دعویٰ، پاکستان کی تین مقامات پر ڈرون گرائے جانے کی تصدیق

پاکستان کی جانب رات گئے افغانستان میں فضائی حملوں کے جواب میں افغان وزارت دفاع نے جمعے کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں جوابی فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے
ہوئے کہا ہے کہ تین شہروں میں چھوٹے ڈورنز کو مار گرایا گیا اور ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، نواحی اور مضافاتی پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون گنز فعال

پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے ضلع بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ نواحی اور مضافاتی پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون گنز کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔

پشار سٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ بھرپور کوآرڈینیشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ نمازِ جمعہ کے موقع پر حساس مقامات اور مساجد کی سکیورٹی کو خصوصی طور پر سخت رکھا گیا، اور ڈویژنل ایس پیز و ایس ڈی پی اوز براہِ راست انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

تجارتی مراکز اور بازاروں میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ خصوصی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر بکتر بند گاڑیاں، ایلیٹ فورس، سٹی پٹرولنگ سکواڈ، ابابیل سکواڈ اور مقامی پولیس ہمہ وقت گشت کر رہی ہے۔

شہر بھر میں سنیپ چیکنگ اور ناکہ بندیوں کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی کڑی نگرانی جاری ہے۔ قیامِ امن کے لیے ضلع بھر میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز بھی مسلسل جاری ہیں۔

کیپٹل سٹی پولیس پشاور کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

ماہ رمضان کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین تصادم تکلیف دہ ہے: ملائیشین وزیرِ اعظم انور ابراہیم

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری تصادم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران یہ لڑائی تکلیف دہ ہے۔ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ اس تصادم کے دوران دونوں طرف ہونے والا جانی نقصان دُکھ کا باعث ہے۔

انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مخاصمت میں اضافے کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتا ہوں، جس میں حالیہ دنوں میں سرحد پار سے فوجی آپریشنز اور دو ہمسایہ مسلم ممالک کے درمیان کھلے عام تنازعات کے اعلانات دیکھے گئے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ملائیشیا پاکستان اور افغانستان دونوں پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام فوجی آپریشن فوری طور پر بند کر دیں۔

انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں تقاضے متضاد نہیں ہیں۔ ان پر مذاکرات کی میز پر ہی بات ہو سکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اس تنازعہ کی زد میں آنے والے شہریوں کے لیے دُعا گو ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ دونوں طرف کے رہنما فہم و فراست کا مظاہرہ کریں گے۔

افغان طالبان کا پاکستان میں فضائی حملوں کا دعویٰ، پاکستان کی تین مقامات پر ڈرون گرانے کی تصدیق

ڈرون

،تصویر کا ذریعہSwabi Police

افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں فضائی کارروائی کی گئی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا کہ ’فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پوسٹ میں دعوی کیا گیا کہ ’یہ حملے کامیاب رہے۔‘طالبان حکومت کی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی جانب سے ان کی حدود میں فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

ان دعووں کے بعد پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ ’فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔‘

ڈرون

،تصویر کا ذریعہSWABI POLICE

انھوں نے بتایا کہ ’اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔‘بی بی سی کے مطابق خیبر پختوا کے علاقے صوابی میں حکام نے ایک چھوٹا ڈرون گرنے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق یہ ڈرون ایک سکول کے قریب گرا اور اس واقعے میں ایک بچی زخمی ہوئی ہے۔صوابی کے ضلعی پولیس افسر وقاص رفیق نے بتایا ہے کہ اگرچہ یہ ڈرون آبادی کے قریب گرا ہے لیکن اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر اس حملے میں سکول نشانہ نہیں تھا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img