جمعرات, فروری ۲۶, ۲۰۲۶
16.7 C
Srinagar

سرینگر ایئرپورٹ کی توسیع نے سیاحتی معیشت کو نئی امیدیں دے دیں، لوگوں میں خوشی کی لہر

سری نگر،: سری نگر کے شیخ العالم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع کے سرکاری اعلان کے بعد کشمیر کی سیاحتی اور تجارتی برادری میں خوشی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ دو برس میں جدید ٹرمینل اور عالمی معیار کی سہولیات پر مشتمل نیا ایئرپورٹ وادی کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سرینگر ایئرپورٹ کو 2005 میں بین الاقوامی درجہ ملا تھا اور گزشتہ برس تک یہ پیک ٹورسٹ سیزن میں روزانہ 110 سے زیادہ پروازیں ہینڈل کر رہا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ہوائی اڈے نے 28,500 پروازوں کے ذریعے 4.47 ملین مسافروں کی آمدورفت ریکارڈ کی تھی، لیکن اپریل 2025 کے حملے کے بعد روزانہ مسافروں کی تعداد 19 ہزار سے گھٹ کر صرف 6,500 رہ گئی۔ کئی ایئر لائنز نے بھی اپنا آپریشن کم کر دیا تھا، جس سے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں کافی متاثر ہوئیں۔ تاہم شہری ہوابازی کی وزارت نے وادی کے مرکزی ہوائی اڈے کی توسیع کے جس بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے، وہ سیاحتی صنعت اور مقامی کاروباروں کے لیے نئی امید کا سبب بن گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمینل کی موجودہ گنجائش گزشتہ چند برسوں میں آنے والے بڑھتے ہوئے رش کے مقابلے میں ناکافی ہو چکی تھی، جس کے باعث توسیع ناگزیر ہوگئی تھی۔ نئے منصوبے کے تحت 73 ایکڑ سے زائد رقبے پر ایک جدید ترین ٹرمینل بنایا جائے گا جو 71 ہزار مربع میٹر پر محیط ہوگا اور پیک سیزن میں 2,900 مسافروں کو بیک وقت سنبھال سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈے کی سالانہ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی ساڑھے 2 ملین سے بڑھا کر 10 ملین کر دی جائے گی۔ نئی عمارت کشمیری ثقافتی رنگوں اور جدید ڈیزائن کا امتزاج ہوگی جس میں توانائی کی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہوگا۔

سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ایئرپورٹ کی توسیع سے سیاحوں کی آمد میں واضح اضافہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسافر اکثر چیک اِن، سیکورٹی اور پارکنگ کی ناکافی سہولیات کی شکایت کرتے تھے۔ نیا ٹرمینل وادی کی سیاحتی ساکھ کو مضبوط کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں سیاحت دگنی ہوسکتی ہے۔

بڑھتے ہوئے ترقیاتی تناظر میں مقامی مسافروں نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ سرینگر سے دہلی جانے والی ایک طالبہ فاطمہ جاوید نے بتایا کہ رش کے وقت ٹرمینل میں جگہ کم پڑ جاتی ہے اور لائنیں حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی سہولیات کے بعد سفر آسان اور تیز ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک مسافر محمد نعیم کا خیال ہے کہ یہ توسیع کشمیر کی شناخت کو نئے درجہ تک پہنچائے گی۔

اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایئرپورٹ کی توسیع صرف سیاحت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ برآمدات، تجارت اور مقامی روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ کشمیری سیب، اخروٹ، زعفران اور دستکاری کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ تک تیزی سے پہنچ سکیں گی۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ وادی میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر کرے گا، جس سے مجموعی طور پر ریاستی معیشت مستحکم ہوگی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق یہ ترقی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں سیاحت کے حصے کو 7 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد تک لے جا سکتی ہے، جبکہ سالانہ سیاحوں کی تعداد 2030 تک 30 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر ایئرپورٹ کی توسیع کو وادی کی ترقی کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاحتی صنعت، مقامی کاروبار، چھوٹے دکاندار، ٹریول ایجنٹس اور مسافر سب ایک بار پھر پرامید نظر آ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف ہوائی اڈے کی وسعت نہیں بلکہ کشمیر کے معاشی مستقبل کی نئی بنیاد ثابت ہوگا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img