منگل, فروری ۱۷, ۲۰۲۶
11.7 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں ہزاروں ڈیلی ویجرز کی ریگولرائزیشن کا معاملہ—حکومت نے اسمبلی میں تفصیلی جواب

جموں:جموں و کشمیر اسمبلی میں منگل کے روز مختلف محکموں میں کام کر رہے ڈیلی ویجرز، کیجول، سیزنل اور دیگر زمروں کے ملازمین کی ریگولرائزیشن سے متعلق اہم سوالات کا تفصیلی جواب پیش کیا گیا۔حکومت نے اعتراف کیا کہ متعدد محکموں میں ہزاروں ورکرس گزشتہ 20 برس سے زیادہ عرصے سے انتہائی کم اجرت پر اہم سرکاری خدمات انجام دے رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق ان ملازمین کی تعیناتیاں مختلف محکموں کی عملی و انتظامی ضرورتوں کے تحت کی گئی ہیں تاکہ زمینی سطح پر سرکاری اسکیموں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ محکمہ وار اور ریجن وار ایسے ملازمین کی مکمل تعداد آن لائن آدھار پر مبنی بایومیٹرک شناختی نظام کے ذریعے رجسٹر کی گئی ہے.حکومت نے واضح کیا کہ ڈیلی ریٹیڈ ورکرز، کیجول لیبر اور دیگر زمروں کو کم از کم اجرت کے مطابق تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور سال 2025–26 کے لیے تمام محکموں کو ’’ویجز اینڈ آؤٹ سورسنگ‘‘ مد میں فنڈ جاری کیے گئے ہیں تاکہ اجرتوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔

فلاحی سہولیات کے بارے میں حکومت نے بتایا کہ تمام ایسے ملازمین کو پی ایم صحت اسکیم کے تحت فی خاندان سالانہ 5 لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس کی سہولت حاصل ہے، جو سرکاری و نجی دونوں منظور شدہ اسپتالوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم چونکہ یہ ملازمین مستقل اسامیوں پر تعینات نہیں، اس لیے باقاعدہ چھٹیاں اور پنشن جیسی مراعات ان پر لاگو نہیں ہوتیں۔
ریگولرائزیشن سے متعلق اہم پیش رفت بتاتے ہوئے حکومت نے کہا کہ 19 مارچ 2025 کو چیف سکریٹری کی سربراہی میں ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے چھ ماہ میں اپنی سفارشات پیش کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ کمیٹی اس وقت مختلف زمروں کے ملازمین کے کیسز، مالی اثرات، قانونی پہلوؤں اور مستقبل کی پالیسی پر جامع کام کر رہی ہے۔

مالی اثرات کے بارے میں بتایا گیا کہ ریگولرائزیشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخراجات کا تخمینہ کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس حوالے سے حکومت تمام محکموں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔یگولرائزیشن میں تاخیر پر حکومت نے کہا کہ یہ نہ تو انتظامی نااہلی ہے اور نہ ہی پالیسی کی غفلت بلکہ معاملہ قانونی مضبوطی اور مالی پائیداری کے تقاضوں کے تحت غورطلب ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی سفارشات موصول ہوتے ہی ان پر شفاف، قانونی اور مالی تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

حکومت نے آخر میں کہا کہ وہ اس مسئلے کو منصفانہ، شفاف اور پائیدار طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img