جموں:جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گھریلو صارفین کو مجموعی طور پر 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا کوئی ہمہ گیر منصوبہ زیر غور نہیں۔ البتہ (اے اے وائی) زمرے کے انتہائی غریب خاندانوں کو یہ سہولت دینے کی تجویز پر غور جاری ہے، جس کی تکمیل کے لیے طریقۂ کار وضع کیا جا رہا ہے۔حکومتی جواب کے مطابق بجٹ 2025-26 میں اے اے وائی کنبوں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا اعلان تو کیا گیا تھا، مگر تاحال کسی بھی اے اے وائی خاندان کو اس کا فائدہ نہیں ملا کیونکہ عملی منصوبہ بندی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔
اسمبلی کو بتایا گیا کہ گھریلو صارفین کے بجلی بقایاجات مکمل طور پر معاف کرنے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں، تاہم بقایاجات پر سود اور سرچارج کی معافی کے لیے ایمنسٹی اسکیم نافذ ہے، جو 31 مارچ 2026 تک جاری رہے گی۔ اب تک 7,32,573 صارفین اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ اے اے وائی گھرانوں کے لیے 2 کلو واٹ کے سولر آر ٹی ایس سسٹمز فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، لیکن اس پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔





