جموں،:جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی منگل کے روز اس وقت شدید ہنگامے کی زد میں آگئی جب ایم ایل اے خورشید نے اچانک کھڑے ہوکر ایم ایل اے رندھاوا کے مبینہ کشمیر مخالف ریمارکس کی جانب اسپیکر کی توجہ مبذول کرائی۔ خورشید کی اس مداخلت کے بعد ایوان میں موجود ایم ایل اے عرفان حفیظ لون، نیشنل کانفرنس کے ارکان اور متعدد دیگر اراکین بھی حمایت میں کھڑے ہوگئے، جس کے نتیجے میں ایوان شور وشرابے کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
ایوان میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب ایک ایم ایل اے نے طنزاً "خسرہ نمبر 211” کا ایک پلے کارڈ لہرا دیا، جو اس معاملے کی جانب اشارہ تھا جس میں رندھاوا کو حال ہی میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس موصول ہوا تھا۔ یہ نوٹس مبینہ طور پر منڈل تحصیل کے گاؤں چک گنیشو میں خسرہ نمبر 211 کی اراضی پر تجاوزات کے الزام سے متعلق تھا۔
ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی و اپوزیشن اراکین کے درمیان تیز الفاظ کا تبادلہ ہوا، جبکہ نعرے بازی اور نعروں نے ماحول کو مزید تلخ کردیا۔ سپیکر کی جانب سے بارہا اپیلوں کے باوجود ایوان میں شور کم نہ ہو سکا اور کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔




