رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ تین ماہ کے دوران بینائی کم ہونے کا مسئلہ درپیش رہا مگر جیل حکام نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس مسئلے کو بروقت ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔‘
سلمان صفدر کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ تقریبا تین سے چار ماہ قبل، یعنی اکتوبر 2025 تک، ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی، تاہم اس کے بعد مستقل دھندلاہٹ اور نظر دھندلانے کی شکایت شروع ہوئی۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق عمران خان کو ریٹینا کی سنگین بیماری لاحق ہے جبکہ سابق وزیر اعظم کی جانب سے جیل میں طبی سہولیات اور باقاعدہ ٹیسٹوں کی فراہمی پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔وکیل نے کہا کہ ’دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا اور عمر کے مطابق باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی نے پانچ ماہ سے وکلا سے ملاقات نہ ہونے کی شکایت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ وکلا سے ملاقات کے بغیر شفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے اور وکلا سے ملاقات یقینی بنائے۔‘
اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتیں محدود ہیں، اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت ہے جبکہ بیٹوں سے فون پر رابطہ بھی انتہائی محدود ہے۔ رپورٹ میں اہل خانہ سے بلا تعطل ملاقاتوں کی سفارش کی گئی ہے۔
جیل کی سہولیات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو سردیوں میں ایک چھوٹا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں سیل میں حبس ہو جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق : ’عمران خان کو گرمیوں میں ریفریجریٹر کی سہولت میسر نہیں اور صرف ایک کول باکس دیا گیا ہے جو ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا اسی گرمیوں میں دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ کا سامنا کرنا پڑا۔‘
رپورٹ میں مچھروں اور حشرات کی موجودگی، گرمیوں میں مناسب نیند نہ آ سکنے، اور سیل میں ٹی وی کے غیر فعال ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ سیل سے مچھروں اور کیڑے مکوڑوں/حشرات کے خاتمے کے اقدامات کیے جائیں، ریفریجریٹر جیسی بنیادی ضرورت فراہم کی جائے اور سیل کے کچن اور صفائی کے نظام میں بہتری لائی جائے۔
اس رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے سیل بلاک میں سخت سکیورٹی اور 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ ورزش اور چہل قدمی کے محدود اوقات میسر ہیں اور محدود ورزش کے آلات اور کھلی جگہ دستیاب ہے۔
سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ملاقات کے دوران بروقت علاج نہ ملنے پر پریشان نظر آئے اور ان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا جسے وہ بار بار صاف کر رہے تھے۔
ان کے بقول: ’عمران خان نے پہلے کبھی صحت کے مسائل کو بنیاد نہیں بنایا، تاہم موجودہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں مجموعی طور پر جیل کے حالات پر فوری توجہ دینے اور ضروری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکومتی رد عمل
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے رپورٹ کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ ’علیمہ خانہ اور بانی پی ٹی آئی کے دیگر فیملی ممبران کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’روزمرہ کے معمولات اور ڈائیٹ پلان کے حوالے سے رپورٹ میں رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق تفصیلات نے تمام ابہام دور کر دیئے ہیں۔‘
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں تمام تر سہولیات میسر ہیں اور انہیں کسی عام قیدی سے کئی گنا زیادہ مراعات حاصل ہیں۔
سپریم کورٹ کو دوبارہ معائنے اور بچوں سے بات کرانے کی یقین دہانی
حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کو 16 فروری سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں کا دوبارہ معائنہ اور ان کے بچوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی جمعرات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان عثمان منصور اعوان نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے کرائی گئی۔
تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی کہ سابق وزیراعظم کی آنکھ کا معائنہ ان کے خاندان کے افراد کی موجودگی میں کرایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالات سے متعلق مقدمے کی دوبارہ سماعت جمعرات کو کی۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے 16 فروری سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے معائنے کے لیے میڈیکل ٹیم بنانے اور انہیں ان کے بچوں سے بات کرنے کی اجازت دیے جانے کا حکم دیا۔
بینچ کے دوسرے رکن جسٹس شاہد بلال حسن تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمران کی صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور اسی لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔
انہوں مزید کہا کہ ’ہم ان (عمران خان) کی صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف جاننا چاہتے ہیں۔‘
اس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے تصدیق کی کہ طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مزید کہا کہ ’اگر قیدی مطمئن نہیں ہوتا ہے تو ریاست اقدامات کرے گی۔‘
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک موقعے پر دوبارہ کہا کہ عمران کی ’اپنے بچوں کے ساتھ ٹیلی فون کالز کا معاملہ بھی اہم ہے۔‘
سپریم کورٹ کے اسی بینچ نے منگل کو پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے اور عدالت کو ان کی صحت اور بیرک کی صورت حال سے متعلق تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے منگل کو ہی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ تین گھنٹے تک ملاقات کی تھی اور آج (جمعرات کو) سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ داخل کی۔
گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عدالت کا 24 اگست 2023 کا حکم بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ’جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے موجود ہے اور اس پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ سلمان صفدر سپریم کورٹ کے عدالتی مینڈیٹ کے ساتھ اڈیالہ جیل جا رہے ہیں اور انہیں عدالت کے دوست کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔‘
سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو جیل سپرٹنڈنٹ اور سلمان صفدر کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، دونوں رپورٹس میں زیادہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ جگہ اچھی ہے اور سہولیات ٹھیک ہیں۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’فیملی ممبرز سے ملاقات کا ایشو ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، مناسب ہوگا کہ متعلقہ فورم ان کا فیصلہ کریں۔‘
دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں سفارشات پڑھ کر سنائیں۔
انہوں نے کہا طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو کچھ کتابیں دینے کا بھی کہا گیا تھا۔ ’آنکھ کے معالجین کے مشورے کے بعد کتابیں فراہم کی جائیں گی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے۔ صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔‘







