ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
5.3 C
Srinagar

ہندوستان اور امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر متفق

نئی دہلی،: ہندوستان اور امریکہ ایک عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں بڑے ٹیرف میں کمی، وسیع مارکیٹ رسائی اور سپلائی چین میں زیادہ تعاون کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک جامع ہند-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے “ہندوستان اور امریکہ کے لیے بڑی خوشخبری” قرار دیا اور دونوں ممالک میں روزگار، اختراع اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی اس کی صلاحیت پر زور دیا۔
وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ “ہم اپنے دو عظیم ممالک کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہوگئے ہیں۔” انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا “دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے لیے ذاتی عزم” پر شکریہ بھی ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کردہ یہ فریم ورک فروری 2025 میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے شروع کی گئی تجارتی بات چیت میں نئی رفتار کی علامت ہے۔ اس کے تحت ہندوستان امریکی صنعتی اشیا اور زرعی و غذائی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر ٹیرف ختم یا کم کرے گا، جبکہ امریکہ عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد کئی ہندوستانی برآمدات پر باہمی ٹیرف واپس لے لے گا۔
اس معاہدے کو ہند-امریکہ شراکت داری کی “بڑھتی ہوئی گہرائی، اعتماد اور فعالیت” کی عکاسی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ حکومت کی اہم ‘میک اِن انڈیا’ پہل کو براہِ راست مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ “یہ فریم ورک ہندوستان کے محنتی کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، اسٹارٹ اپ اختراع کاروں، ماہی گیروں اور دیگر کے لیے نئے مواقع کھول کر ‘میک اِن انڈیا’ کو مضبوط کرتا ہے۔ اس سے خواتین اور نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوں گے۔”
عبوری معاہدے کا مقصد دونوں فریقوں کو ابتدائی فوائد دینا ہے اور ساتھ ہی اشیا، خدمات، ڈیجیٹل تجارت اور سرمایہ کاری پر مشتمل ایک جامع اور قانونی طور پر پابند دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی راہ ہموار کرنا ہے۔
وزیراعظم نے ٹیکنالوجی اور اختراع پر معاہدے کے زور کا بھی ذکر کیا، جو نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے مرکز میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ ہندوستان اور امریکہ اختراع کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں اور یہ فریم ورک ہمارے درمیان سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کو مزید گہرا کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سے “مضبوط اور قابلِ اعتماد سپلائی چین” بنانے میں مدد ملے گی اور عالمی ترقی میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔
امریکی افسران کے مطابق یہ فریم ورک باہمی تجارت اور طویل مدتی اقتصادی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے، خاص طور پر عالمی سپلائی چین میں خلل اور تیسرے ممالک کی غیر مارکیٹ پالیسیوں کے تناظر میں۔
گزشتہ دہائی میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات مسلسل مضبوط ہوئے ہیں اور اشیا و خدمات کی دوطرفہ تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، تاہم ٹیرف، مارکیٹ رسائی اور غیر ٹیرف رکاوٹوں پر اختلافات نے مکمل آزاد تجارتی معاہدے کی جانب پیش رفت کو سست کر دیا تھا۔
اس عبوری فریم ورک کو سیاسی رفتار برقرار رکھتے ہوئے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک عملی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے مینوفیکچرنگ، زراعت، ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے شعبوں کو نمایاں فائدہ ہو سکتا ہے اور ہندوستانی کمپنیوں کو عالمی ویلیو چین میں مزید گہرائی سے شامل ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
ہندوستان کے “وکست بھارت” کے ہدف کی جانب پیش قدمی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ نئی دہلی مستقبل پر مبنی عالمی شراکت داریوں کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایسی عالمی شراکت داریوں کے لیے پُرعزم ہیں جو ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائیں اور مشترکہ خوشحالی میں تعاون دیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔

Popular Categories

spot_imgspot_img