ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
5.3 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں نئی شراب کی دکانیں کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں: حکومت

جموں،: جموں و کشمیر حکومت نے ہفتے کے روز قانون ساز اسمبلی میں واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران مرکزی زیر انتظام علاقے میں نئی شراب کی دکانیں کھولنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ یہ وضاحت محکمہ خزانہ کی جانب سے ایم ایل اے ارجن سنگھ راجو کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر نئی لائسنسنگ یا شراب کی دکانوں کے اجراء کی کوئی تجویز حکومت کے پاس نہیں ہے۔
ایوان میں جمع کرائے گئے جواب میں حکومت نے گزشتہ دو مالی برس 2023-24 اور 2024-25 کے دوران جموں اور کشمیر ڈویژن کے اضلاع سے شراب کی دکانوں کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع نے 2024 میں 48,350.15 روپے اور 2025 میں 50,913.93 روپے کی آمدنی حاصل کی، جبکہ ادھمپور میں 2024 میں 11,322 روپے اور 2025 میں 12,061.50 روپے کی آمدنی درج ہوئی۔ اسی طرح ریاسی، کٹھوعہ، سانبہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، رامبن، راجوری اور پونچھ اضلاع میں بھی گزشتہ دونوں برسوں میں قابلِ ذکر مالی وصولیاں ریکارڈ کی گئیں۔
کشمیر صوبے میں سرینگر نے 2024 میں 5,489.67 روپے اور 2025 میں 6,557.66 روپے کی آمدنی فراہم کی، جبکہ گاندربل، بارہمولہ، کپوارہ اور اننت ناگ اضلاع میں بھی شراب کی موجودہ دکانوں سے حاصل ہونے والی رقم میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری ڈیٹا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر جموں صوبے کی آمدنی کشمیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے۔
حکومت نے اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں کے لیے بے نامی لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا اور تمام لائسنس صرف جموں و کشمیر کے ڈومیسائلز کو جے اینڈ کے ایکسائز ایکٹ 1958 اور موجودہ ایکسائز پالیسی کے تحت شفاف طریقے سے جاری کیے جاتے ہیں۔ سرکاری وضاحت کے مطابق لائسنسنگ کے پورے عمل کی نگرانی سخت اصولوں کے مطابق کی جاتی ہے اور کسی بھی غیر قانونی طریقے، بے نامی شراکت یا بیرونی افراد کے نام پر لائسنس جاری کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
حکومت کی یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ برسوں میں شراب پالیسی، لائسنسنگ اور نئے دکانوں کے قیام سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی ہیں۔ سرکاری بیان نے ان تمام خدشات کو رد کرتے ہوئے صاف کر دیا کہ موجودہ مالی ڈھانچے اور ایکسائز پالیسی کے تحت نئی شراب کی دکانوں کا کوئی منصوبہ نہ تو زیر غور ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی ایسی پیش رفت کا امکان ہے۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img